پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی روپیہ منگل کو اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح یعنی اناسی روپے اسّی پیسے تک گِر گیا جبکہ انٹر بینک ریٹ اٹہتر روپے پینسٹھ پیسے رہا۔ دوسری جانب زرِمبادلہ کے ذخائر میں بھی گزشتہ ایک ماہ میں تقریبا ایک ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ امریکہ میں معاشی بحران اور اس پر قابو پانے کے لئے امریکی حکومت کی جانب سے سات سو ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج کے اعلان کے بعد اس کا اثر پاکستان کی معیشت پر تو براہِ راست نہیں پڑا لیکن جہاں دنیا کی مختلف کرنسیوں پر اس کا اثر پڑا ہے وہیں پاکستانی کرنسی بھی اپنی قدر کھو رہی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر پچھلے چار ماہ سے مسلسل گِر رہی ہے۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کے خیال میں بیس ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی بنیادی وجہ ہے اور یہ خسارہ کسی طور بھی کم نہیں ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی ہے اور بیرونِ ممالک سے سرمایہ بھی کم آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی افواہیں بھی مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خریداری شروع کردی جس سے روپے پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور ڈالر مستحکم ہوا ہے۔ منگل کے روز ڈالر کے مقابلے میں روپے میں ستّر پیسے کی کمی ہوئی ہے۔ ملک بوستان کے بقول امریکی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ بیل آؤٹ پیکیج کے بعد صرف پاکستانی روپے پر ہی نہیں بلکہ اس کا اثر دنیا کی دوسری کرنسیوں پر بھی پڑا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں یورو اور برطانوی پاؤنڈ پینتیس فیصد جبکہ پاکستانی روپیہ بیس فیصد گِرا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ایک ماہ پہلے نو ارب تیرہ کروڑ ڈالر تھے جو اب گِر کر آٹھ ارب ساڑھے تیرہ کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں۔ اور روپے کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی بھی ہے۔ ملک بوستان کا کہنا ہے کہ اگر روپے کی قدر کو بہتر کرنا ہے تو حکومت زرِ مبادلہ کو بڑھانے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہوم ریمیٹینس بڑھانے کے لئے پاکستانیوں کو بیرونِ ممالک کام کرنے بھیجا جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے، پرائیویٹائزیشن، اور بیرونِ ملک سرمایہ کاری کو تیزکیا جائے، یہ ایسے اقدامات ہیں جن سے تجارتی خسارے پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔ اگر امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی ہورہی ہے تو آخر ایک عام یا غریب آدمی کو اس سے کیا فرق پڑےگا۔ معاشی تجزیہ کار ظفر موتی نے کہا کہ مہنگائی بڑھے گی کیونکہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی اشیاء مہنگی ہوجائیں گی اور صنعت کار جو خام مال درآمد کرتے ہیں انہیں اپنی تیار اشیاء کی چیزوں کی قیمتوں کو بڑھانا پڑے گا جس سے عام آدمی کو مہنگی قیمت پر اشیاء دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیزیں مہنگی ہونے سے فروخت پر منفی اثر پڑے گا جس سے صنعت کار کی آمدن اور منافع متاثر ہوگا اور آخر کار وہ اپنے ہاں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کے بجائے ان کی چھانٹی کرنے پر مجبور ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج میں لاک کھلتے ہی بیرونِ ملک سرمایہ کار شیئرز فروخت کرکے اپنا سرمایہ نکالیں گے جس سے مارکیٹ میں مندی کا رجحان غالب رہے گا جبکہ روپے کی قدر میں کمی سے جہاں ایک جانب درآمدی اشیاء جن میں خوردنی تیل اور دیگر اشیاء شامل ہیں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا وہیں مہنگائی میں بھی بڑھے گی۔ | اسی بارے میں مالی بحران،مشترکہ اقدام کا فیصلہ04 October, 2008 | آس پاس اہم یورپی بینک دیوالیہ کے قریب05 October, 2008 | آس پاس ہائپو کو بچانے کے لیے پیکج تیار06 October, 2008 | آس پاس معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں کمی06 October, 2008 | آس پاس بینک دیوالیہ مگر سربراہ ’مالا مال‘07 October, 2008 | آس پاس حصص:پہلے مندی پھر کچھ بہتری07 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||