BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دورہِ چین: زیادہ امیدیں نہیں

زرداری
چین کو آنے والے وقتوں میں اقتصادی میدان کا سب سے بڑا کھلاڑی قرار دے رہے ہیں
صدر آصف علی زرداری کے دورۂ چین سے پاکستانی صنعت کاروں اور تاجروں کو بہت امیدیں وابستہ ہیں جبکہ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوری طور پر زیادہ امیدیں نہیں باندھنی چاہیے البتہ اس کے دور رس نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔

پاکستان کی چین کے ساتھ دیرینہ دوستی رہی ہے اور اس دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے لئے صدر آصف علی زرداری چین کے چار روزہ دورے پر ہیں۔

صدر زرداری کا دورۂ چین ایسے وقت ہورہا ہے جب امریکہ اور یورپ اقتصادی اور معاشی بحران کے لپیٹ میں ہیں اور اس پر قابو پانے کے لئے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں جبکہ ماہرین چین کو آنے والے وقتوں میں اقتصادی میدان کا سب سے بڑا کھلاڑی قرار دے رہے ہیں اور صدر آصف زرداری نے بھی چین کو دنیا کا مسقبل قرار دیا ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور صنعت کار زبیر موتی والا کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا اقتصادی بحران کا شکار ہے اور پاکستان کی معیشت بھی بحران سے گذر رہی ہے۔ ان حالات میں ایک ہی ملک یعنی چین ہے جو اس بحران سے محفوظ ہے لہٰذا ایسے وقت میں صدر زرداری کا دورۂ چین یقیناً پاکستان کے لئے مفید ثابت ہوگا۔

ماہرین کے بقول اس وقت پاکستان میں توانائی کا شعبہ شدید بحران سے دوچار ہے اور اس حوالے سے چین سے تعاون کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تجارت میں ترقی ہونی چاہیے۔ پاکستانی مصنوعات کی چین میں نمائش ہونا چاہیے تاکہ پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہو اور چین جس طرح دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس دورے سے امید کی جاسکتی ہے کہ چین پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔

ایف پی سی سی آئی یعنی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر تنویر احمد شیخ کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ بجلی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تجارتی خسارہ ہے اور اسی وجہ سے زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں لہٰذا فوری طور پر پاکستان کو زرِمبادلہ کی ضرورت ہے اور چین کے پاس اس وقت انیس سو ارب ڈالر زرِمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اور وہ پاکستان کو فارن ایکسچینج کا انجکشن قلیل مدتی یا طویل مدتی قرضوں یا گرنٹ کی صورت میں دے سکتا ہے۔

 پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تجارتی خسارہ ہے اور اسی وجہ سے زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں لہٰذا فوری طور پر پاکستان کو زرِمبادلہ کی ضرورت ہے اور چین کے پاس اس وقت انیس سو ارب ڈالر زرِمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اور وہ پاکستان کو فارن ایکسچینج کا انجکشن قلیل مدتی یا طویل مدتی قرضوں یا گرنٹ کی صورت میں دے سکتا ہے۔

دوسری جانب ماہرِ اقتصادیات اسد سعید کا کہنا ہے کہ فوری مسائل کے حوالے سے پاکستان کو زیادہ امیدیں نہیں باندھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکلنے کے لئے پانچ سے سات ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے لیکن کوئی بھی ملک کسی بھی معاشی منصوبہ بندی کے بغیر سرمایہ نہیں دے گا جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ پیسہ کس طرح اور کہاں خرچ کیا جائے گا۔

البتہ اسد سعید کہنا ہے کہ چین کی تمام شعبوں میں اچھی کارکردگی رہی ہے اور وہ سرمایہ کاری کرنے کی پوزیشن میں بھی ہے لہٰذا اگر چین پاکستان میں صحیح شعبوں میں سرمایہ کاری کرے تو اس سے دور رس اور مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئلے کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں اور خاص طور پر اگر کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صنعت میں چین کی جانب سے سرمایہ کاری کی جائے تو ملک میں پچاس فیصد بجلی کی ضرورت اس کے ذریعے حل ہونے کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔

ان کے بقول خطے میں تجارت کو فروغ دیے جانے کا رجحان اس وقت دنیا میں عام ہے۔ مثال کے طور پر یورپی یونین کو دیکھیں سافٹا اور افریقن یونین وغیرہ اس وقت باہمی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں اور ان کا تجارتی حجم ہمارے خطے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں پاکستان کو چاہیے کے وہ خطے میں تجارت کو فروغ دے اور اس میں چین کے علاوہ بھارت، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھاوا دے جس سے ملک کی معیشت خاص طور پر برآمدات کو ایک نئی سمت ملے گی۔

سرکاری حکام کے مطابق دورۂ چین کے دوران اقتصادی شعبے کے علاوہ متعدد شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ چینی صدر ہوجنتاؤ نے سنہ دوہزار چھ میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق دونوں ممالک سن دوہزار گیارہ تک تجارتی حجم کو پندرہ ارب ڈالر تک بڑھائیں گے۔

وال سٹریٹ انٹرویو
’صدر زرداری نے ایسے نہیں کہا تھا‘
’انڈیا خطرہ نہیں تھا‘
صدر زرداری کا امریکی اخبار کو انٹرویو
’طالبان کینسر ہیں‘
ملک سے طالبان کا صفایا کر دیں گے:صدر زرداری
آصف زرادینام میں سب رکھا ہے
نواب شاہ سے بینظیر بھٹو شہید تک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد