BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 October, 2008, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے مالی مسائل کتنے گھمبیر؟

سٹیٹ بینک آف پاکستان
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زر مبادلہ چار ارب چھیالیسی کروڑ ہیں
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی معیشت آج کل صحافتی حلقوں میں ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ پاکستان سے باہر معیشت پر بحث کا مرکز سٹاک مارکیٹ کی دِگر گوں صورتحال، ہاؤسنگ مارکیٹ اور بینکوں کو بچانے کے لیے مختلف حکومتوں کی طرف سے متعارف کرائے گئے امدادی پیکج ہیں۔

لیکن پاکستان کی صورتِ حال اس سے قطعی طور پر مختلف ہے۔ وہاں کل تک تو بحث کے مرکزی نقطے آٹے کا بحران، پٹرول کی قیمتیں اور بجلی کی لوڈشیڈنگ تھے لیکن اب بحث کا رخ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئے قیمت کی طرف مڑ چکا ہے۔

ان موضوعات پر بحث ملک میں طرح طرح کی افواہوں کو جنم دے رہی ہے۔ کبھی یہ افواہ گردش کرنے لگتی ہے کہ حکومت مخلف بینکوں میں غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹ منجمد کرنے والی ہے تو کہیں یہ خدشہ لوگوں کی نیندیں حرام کر رہا ہے کہ کہیں حکومت بینک لاکروں پر قبضہ نہ کر لے اور زیورات اور پرائز بانڈوں سے نہ ہاتھ دھو بیٹھیں۔

ان سب افواہوں اور بے یقینی کی صورتِ حال کے پیچھے یہ اطلاعات کارفرما ہیں کہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور وہ پچھلے ایک سال سے کم ہوتے ہوتے خطرناک سطح تک پہنچ چکے ہیں اور اگر صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو یہ ذخائر صرف چند ماہ تک ہی ملک کا امپورٹ بِل پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کی معاشی صورت حال اتنی خطرناک ہو چکی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی؟ کیا پاکستان کے زرِِ مبادلہ کے ذخائر اتنے ہی کم ہو چکے ہیں کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے؟ میں نے یہاں انہیں سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

آصف زرداری
فرینڈز آف پاکستان کنسورشیم کا قیام صدر زرداری کے دورہِ امریکہ میں ہی عمل میں آیا تھا
پاکستان کے مالی استحکام کے بارے میں حالیہ بحث کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے کیونکہ آج سے ٹھیک ایک سال پہلے اکتوبر دو ہزار سات میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر سولہ اعشاریہ چار ارب ڈالر تھے اور اس وقت کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ ایک سال کے اندر یہ چار ارب چھیالسی کروڑ کی حد تک آ جائیں گے۔ نجی بینکوں کے پاس جمع تین ارب پینتالیس کروڑ کی رقم اس کے علاوہ ہے۔

انگریزی اخبار ڈان سے منسلک سینئر صحافی صبیح الدین غوثی کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو معاشی لحاظ سے ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے لیکن حالات اتنے بھی خراب نہیں ہے کہ ہم ملک کے مستقبل کے بارے میں مایوسی کا شکار ہو جائیں۔

اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو صبیح الدین غوثی کی رجائیت بے جا بھی نہیں لگتی کیونکہ پاکستان اس سے پہلے اس سے کہیں بڑے معاشی بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے۔ آپ زیادہ دور نہ جائیں، گھڑی کو صرف نو سال پیچھے لے جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر صرف اور صرف پچاس سے ساٹھ کروڑ ڈالر رہ گئے تھے اور حکومت کے پاس اتنے بھی پیسے نہیں بچے تھے کہ وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ بھی ادا کر سکے۔

صبیح الدین غوثی کے مطابق زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ گزشتہ سال اکتوبر میں ہوا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن اس وقت کی حکومت میں یہ اخلاقی جرات نہیں تھی کہ وہ اصل صورتِ حال عوام کے سامنے رکھتی اور اس اضافے کا کچھ بوجھ آگے منتقل کرتی۔ اس کے بجائے حکومت نے تیل کی مد میں سبسڈی دینا شروع کر دی جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر بے پناہ بوجھ پڑا۔

دوسری طرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر فعال کرنے کے خلاف احتجاجی تحریک مارچ سے جاری تھی اور پورا ملک ایک جمود کے عالم میں تھا۔ نومبر دو ہزار سات میں لگائی جانے والی ایمرجنسی نے سونے پر سوہاگے کا کام کیا۔ اس سیاسی بے یقینی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ بیس ارب ڈالر تک بڑھ گیا جو اس کی برآمدات کے مکمل حجم کے برابر بنتا ہے۔

مسٹر صبیح الدین غوثی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو فوری مسئلہ سرمایے کی کمی کا ہے اور اگر اس اسے کہیں سے پانچ سے چھ ارب ڈالر تک رقم مل جائے تو نہ صرف یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے بلکہ وہ اعتماد بھی واپس آ سکتا ہے جس کی اس وقت ملک میں کمی ہے۔

شوکت عزیز اور مشرف
پاکستان کی مالی بدحالی کا کچھ الزام سابق حکمرانوں پر بھی آتا ہے
لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کے شعبہ معاشیات کے سربراہ ڈاکٹر فیصل باری کا کہنا ہے کہ تیل کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں اجناس کی قیمتوں میں اضافے اور بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے پاکستان کے زرِِ مبادلے کے ذخائر پر بے جا بوجھ پڑا جس کی وجہ سے ان میں تیزی سے کمی آئی۔

ڈاکٹر فیصل باری کے مطابق ملکی برآمدات، غیر ملکی سرمایہ کاری، غیر ملکی امداد، بیرونی قرضے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقومات وہ ذرائع ہیں جو ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو توانا رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک بیرونِِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات کا تعلق ہے وہ تو ابھی بھی جاری ہیں اور ان میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے سلسلے میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا جس کی سکیورٹی کی موجودہ صورتِ حال میں امید نہیں کی جا سکتی۔

لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو کیا پاکستان کے اپنی بیرونی ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کرنے کے امکانات موجود ہیں؟

ڈاکٹر فیصل باری کے مطابق ملکوں کے ڈیفالٹ کرنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، خاص طور پر سترہ کروڑ کے ملک پاکستان کے جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے سٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے بلکہ وسائل سے بھی مالامال ہے۔

تیکنیکی طور پر ملک اس وقت ڈیفالٹ کرتا ہے جب وہ بیرونی قرض خواہوں کے سامنے اپنی مالی مشکلات کی بنیاد پر اصل زر یا قرضے پر واجب سود کی رقم لوٹانے سے معذوری کا اظہار کر دے۔

ڈاکٹر فیصل باری کے مطابق پاکستان کے سلسلے میں ایسا ہونے نہیں دیا جائے گا کیونکہ ایسا ہونا کسی کے بھی حق میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے معاشی مینیجرز اگر ایک معقول سا معاشی پروگرام بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے انہیں مطلوبہ رقم آسانی سے مل سکتی ہے۔

جہاں تک اس وقت تک پاکستان کو حاصل ہونے والی مالی امداد، قرضوں اور اقرار ناموں کا سوال ہے تو عالمی بینک نے پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کا اعلان کر رکھا جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر کی رقم جاری ہو چکی ہے جبکہ مزید پچاس کروڑ ڈالر آئندہ کچھ عرصے میں ملنے کی توقع ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک پاکستان کو فوری نوعیت کے لین دین کے لیے پچاس کروڑ ڈالر دیتا ہے لیکن اس سال اس نے یہ رقم بڑھا کر ایک ارب ڈالر کر دی ہے۔

سعودی عرب بھی پاکستان کو مالی مشکلات سے باہر نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے موقع پر پاکستان کو تین ارب ڈالر کی ہنگامی امداد اور چین سرمایہ کاری کی توقع تھی۔ دورہ ختم ہو چکا ہے اور اسے پاکستانی حکومت کی طرف سے انتہائی کامیاب قرار دیا جا رہا لیکن ہنگامی امداد کی درخواست پر کس طرح کا ردِ عمل ملا اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا جا رہا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو انفرادی ملکوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے ملنے والے قرضے، امداد اور سرمایہ کاری انحصار بڑی حد تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی تعاون پر ہے۔ بعض حلقے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی غیر واضح پالیسی کو کسی حد تک ملک کی مالی مشکلات کا سبب بھی قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر فیصل باری کے مطابق امریکہ، برطانیہ، چین، سعودی عرب اور جی سیون ملکوں پر مشتمل فرینڈز آف پاکستان کی شکل میں ایک بہت فعال فورم وجود میں آ چکا ہے جس سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کنسورشیئم کے ابوظہبی میں ہونے والے اجلاس میں ٹھوس وعدے لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی مالی پریشانیاں بڑے حد تک کم ہو جائیں گی۔

ڈالرنو کروڑ کی مزید کمی
پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر میں کمی جاری
معیشتمستحکم سے منفی
پاکستان کا عالمی معاشی درجہ رو بہ زوال
بجلیبجلی شام کو مہنگی
استعمال کے وقت کے لحاظ سے قیمت کا تعین
منجمد بازار حصص
کے ایس ای، انجماد ختم کرنے میں پیش رفت نہیں
اسی بارے میں
کیش ریزرو 6 فیصد کردی گئی
17 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد