BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں چکی مالکان کی ہڑتال

فائل فوٹو
ہڑتال سے رمضان میں آٹے کا بحران پیدا ہوسکتا ہے
پاکستان کے صوبہ سندھ میں آٹا چکی مالکان کی ہڑتال منگل کو دوسرے دن بھی جاری رہی۔

ملز مالکان کا کہنا ہے کہ ان سے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور ویجیلنس کمیٹی کے اراکین انہیں تنگ کر ر ہے ہیں۔

سندھ فلور ملرز ایسوسی ایشن کے سربراہ اقبال پاک والا نے غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ خوراک کے لوگ تیس رپے فی بوری رشوت مانگ رہے ہیں، جو پندرہ لاکھ بوریوں پر ساڑھے چار کروڑ روپے بنتے ہیں اور انہوں نے یہ رقم دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو ویجیلنس کمیٹیاں بنائی ہیں ان میں غیر سرکاری لوگ بھی شامل کیے گئے ہیں جو اسلح کے ساتھ ملوں پر آتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں اس لیے ان لوگوں کو وجیلنس کمیٹیوں سے نکالا جائے۔

اقبال پاک والا کا کہنا تھا کہ حکومت کو تحریری طور پر شکایت کئی گئی ہے اور میٹنگ میں بھی نشاندہی کی گئی مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوجاتے ہڑتال جاری رہے گی۔

محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ سندھ میں فلور ملرز کی ہڑتال ناکام ہوئی ہے کچھ عناصر بلیک میل کرنے کے لیے ایسے حربے استعمال کر رہے ہیں۔

ڈائریکٹر فوڈ اشفاق موسوی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہڑتال ناکام ہوئی ہے اور نصف سے زائد فلور ملز معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔ جو ملز بند ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کی گندم کا کوٹہ ان کو فراہم کیا جائےگا جنہوں نے ملیں کھول رکھی ہیں۔

ڈائریکٹر فوڈ کا کہنا تھا کہ محکمہ خوراک پر فی بوری تیس رپے کمیشن لینے کے الزامات بے بنیاد ہیں انہوں نے جب غیر معیاری آٹے کی فراہمی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی تو یہ الزامات لگائے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ فلور ملز کے معائنے کے وقت ان کے ساتھ پولیس اہلکار موجود ہوتے ہیں انہیں کسی صورت میں ہٹایا نہیں جائےگا اور فلور ملز ایسو سی ایشن سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

فلور ملز کی ہڑتال کی وجہ سے صوبے بھر میں آٹے کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور دکانداروں نے آٹے کی قیمتوں میں دو سے تین روپے اضافہ کردیا ہے۔

اسی بارے میں
آٹا سمگلنگ، افغان سرحد بند
15 January, 2008 | پاکستان
پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ
13 December, 2007 | پاکستان
آٹے کا بحران
21 November, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد