آٹا سمگلنگ، افغان سرحد بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک میں افغان حکام نے پاک افغان سرحد بند کر دی ہے۔ سرحد کی بندش کا فیصلہ پاکستان کی جانب سے آٹے اور گندم کی سمگلنگ کو روکنے کے حوالے سے کیےگئے اقدام کے بعد کیا گیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے پاس اجازت نامے ہیں انہیں بھی گندم اور آٹا نہیں لے جانے دیا جا رہا۔ فرنٹیئر کور کے حکام کا کہنا ہے اس بارے میں وفاقی حکومت کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں گندم کے بحران کا اثر افغانستان میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں سو کلو آٹے کی بوری کی قیمت پاکستان کی نسبت چھ سو سے آٹھ سو روپے مہنگی فروخت ہوتی ہے ۔ افغانستان سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کچھ روز سے آٹے کی افغانستان کی جانب ترسیل روک دی گئی ہے جس وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ چمن سے تاجروں نے بتایا ہے سرحد پر تعینات فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے قانونی اور غیر قانونی ہر قسم کے آٹے کی ترسیل روک دی ہے اور جہاں گندم اور آٹے کے ٹرک رکتے تھے وہاں فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں آٹے اور گندم کی منڈی پر بھی ایف سی کے اہلکار موجود ہیں۔ اس حوالے سے انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل سلیم نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد بند نہیں کی گئی بلکہ ورلڈ فوڈ پروگرام اور دونوں ممالک کے مابین پہلے سے طے کیے گئے دیگر قانونی طریقوں سےگندم اور آٹے کی ترسیل جاری ہے۔ یاد رہے بلوچستان میں آٹا ملوں گوداموں اور آٹے کے فروخت کے سرکاری مراکز پر فرنٹیئر کور تعینات کی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آٹے کی بہتر ترسیل کے لیے یہ اقدام کیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں ناظمین نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ | اسی بارے میں ’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘15 January, 2008 | پاکستان ’منہ سے روٹی کا نوالہ تو نہ چھینیں‘15 January, 2008 | پاکستان ’بحران کے خاتمے میں وقت لگےگا‘15 January, 2008 | پاکستان ’بحران حکومتی نااہلی کا نتیجہ‘ 15 January, 2008 | پاکستان آٹے کے بحران میں پِس عام آدمی رہا ہے14 January, 2008 | پاکستان سندھ:رینجرز موجود مگر آٹا غائب14 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||