عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | ’اب ہم غریبوں کا کیا بنے گا۔یہ ظلم ہے سراسرظلم‘ |
’ایک ہفتے سے گھر میں آٹا نہیں ہے۔ ہمیں اچھے ملبوسات اور نہ ہی تفریح کا کوئی سامان چاہیے مگر کم سے کم بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ تو نہ چھینا جائے‘۔ پشاور کے مضافات میں واقع نسبتاً غریب علاقے سوڑیزئی بالا کی تسلیمہ بیوگی کی زندگی گزارتے ہوئے پہلے ہی سے مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ تسلیمہ کا کہنا ہے کہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے صدقات اور زکوٰۃ پر ہی ان کی گزر بسر ہوتی ہے لیکن مہنگائی بالخصوص آٹے کی گرانی نےانہیں چاول، آلو یا جوار کی روٹی کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے بقول’ آٹے کے تھیلے کی قیمت پانچ سو روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور ہم میں اتنی زیادہ قیمت پر آٹا خریدنے کی معاشی سکت نہیں رہی ہے‘۔  |  گزشتہ روز ہی ایک پڑوسی نے کٹورا بھر آٹا بھیجا تھا جس سے رات کو ہی پکا کر ختم کر دیا گیا۔ آج پھر کسی خدا ترس کے انتظار میں ہیں اگر ملا تو سہی نہیں تو خدا کا نام لے کر بھوکے سو جائیں گے۔  نور جہاں |
تسلیمہ نےگلوگیر آواز میں کہا کہ’ ایک ہفتے سے گھر میں آٹا نہیں ہے، بس آلو، جوار کی روٹی اور چاول پر گزارہ کر رہے ہیں۔ہمیں اچھے ملبوسات اور تفریح کا کوئی سامان نہیں چاہیے مگر کم سے کم ہمارے بچوں کے منہ سے تو روٹی کا نوالہ نہ چھینا جائے‘۔ تسلیمہ کے گاؤں کے پڑوس میں واقع سوڑیزئی پایاں کی نورجہاں نے بھی گزشتہ تین روز سے آٹا نہیں دیکھا ہے۔دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی ماں نورجہاں کا خاوند دو ہفتہ قبل انتقال کر چکے ہیں اور ان کے گھر کی آمدنی محض آٹھ سو روپے ہے۔ نور جہاں کا کہنا ہے کہ’گزشتہ روز ہی ایک پڑوسی نے کٹورا بھر آٹا بھیجا تھا جس سے رات کو ہی پکا کر ختم کر دیا گیا۔ آج پھر کسی خدا ترس کے انتظار میں ہیں اگر ملا تو سہی نہیں تو خدا کا نام لے کر بھوکے سو جائیں گے‘۔  |  ایک ہفتے سے گھر میں آٹا نہیں ہے، بس آلو، جوار کی روٹی اور چاول پر گزارہ کر رہے ہیں۔ہمیں اچھے ملبوسات اور تفریح کا کوئی سامان نہیں چاہیے مگر کم سے کم ہمارے بچوں کے منہ سے تو روٹی کا نوالہ نہ چھینا جائے۔  نسیمہ |
نور جہاں کہتی ہیں کہ چند روز قبل ہی انہوں نے اپنے بیٹے کو اسّی روپے دے کر دو کلو آٹا منگوایا تھا لیکن اب ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ بازار سے کھلا آٹا خرید سکیں۔’جب کبھی ہم تک آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی خبر پہنچتی ہے تو دل دھڑک سا جاتا ہے کہ اب ہم غریبوں کا کیا بنے گا۔یہ ظلم ہے سراسرظلم‘۔ سوڑیزئی ہی میں پندرہ سالہ رحمان کے گھر میں بھی کئی دنوں سے آٹا نہیں ہے۔ ان کا باپ مر چکا ہے اور وہ خود کام کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’ہمارے پاس بیس کلو آٹے کا تھیلا خریدنے کے پیسے نہیں جبکہ مارکیٹ میں کھلا آٹا دستیاب نہیں ہے۔ پہلے تندور سے روٹی لاتے تھے مگر اس کی قیمت بھی اب چار سے چھ روپے ہوگئی ہے اور شاید ہم بازار سے روٹی خریدنے کی سکت بھی کھو دیں‘۔ |