BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 August, 2008, 08:48 GMT 13:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: اے این پی رہنما کا گھر تباہ

گرلز سکول کی عمارت
حملے میں گرلز سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں تشدد کے مختلف واقعات میں مقامی طالبان نے لڑکیوں کے ایک ہائر سیکنڈری سکول اور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما اور ان کے بھائیوں کے گھروں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا ہے جبکہ ایک پولیس چوکی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

سوات سے موصولہ اطلاعات میں پولیس کے مطابق پہلا واقعہ مینگورہ کے علاقے منگلہ وار میں گزشتہ رات اس وقت پیش آیا جب بیس کے قریب مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک ہائر سکینڈری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکوں سے پندرہ کمروں پر مشتمل سکول مکمل طورپر زمین بوس ہوگیا۔

پولیس کے مطابق تحصیل مٹہ میں بھی مسلح افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنما مظفر خان اور ان کے تین بھائیوں کے گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے تین گھر تباہ ہوگئے ہیں۔

گزشتہ دو دنوں میں اے این پی کے رہنماؤں پر حملوں کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل رکن صوبائی اسمبلی وقار احمد خان کے بھائی، دو بھتیجوں اور محافظوں سمیت آٹھ افراد کو ایک حملے میں ہلاک کیا گیا تھا جبکہ کلہ کلی میں بھی اے این پی کے ایک رہنما کو قتل کیا گیا تھا۔

طالبان الزام لگاتے ہیں کہ سوات میں ان کے خلاف جاری کارروائیاں اے این پی کی صوبائی حکومت کے کہنے پر کی جاری ہے۔

 گزشتہ دو دنوں میں اے این پی کے رہنماؤں پر حملوں کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل رکن صوبائی اسمبلی وقار احمد خان کے بھائی، دو بھتیجوں اور محافظوں سمیت آٹھ افراد کو ایک حملے میں ہلاک کیا گیا تھا جبکہ کلہ کلی میں بھی اے این پی کے ایک رہنما کو قتل کیا گیا تھا۔

ادھر پیر کی رات مینگورہ کے علاقے شادرہ میں بھی مسلح طالبان نے ایک پولیس چوکی کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا جس سے دو پولیس اہلکاروں سمیت گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں چوکی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم نے گزشتہ رات علاقے میں ہونے والے ان تمام واقعات کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

دریں ثناء سوات میڈیا سنٹر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ گزشتہ روز کوزہ بانڈئی اور نمل میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹروں اور بھاری توپ خانے سے حملے کیے گئے جس میں متعدد طالبان ہلاک ہوگئے ہیں۔ بیان کے مطابق نمل کے علاقے میں عسکریت پسندوں ک اہم مورچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سوات میں حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب تقریباً ایک ماہ قبل مقامی طالبان نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے تین اہلکاروں کو ایک حملے میں ہلاک کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جس میں اب تک مجموعی طورپر سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے محفوظ مقامات پر پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں
سوات:گولہ باری سےہلاکتیں
24 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد