BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 August, 2008, 20:35 GMT 01:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وادی نیلم: مقامی لوگوں کا مظاہرہ

وادی نیلم کا ایک منظر
وادی کشمیر میں ہندوستان کی فوج کے خلاف برسرپیکار عسکریت پسندوں کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وادی نیلم کے علاقے میں مبینہ موجودگی کے خلاف سنیچر کے روز احتجاج کے طور پر دکانیں بند رکھی گئیں اور مظاہرہ کیا گیا۔

وادی نیلم میں کوئی ڈیڑھ ماہ میں اس نوعیت کا یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ اس سے پہلے اس طرح کے مظاہروں کی شاہد ہی کوئی مثال ہو۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف سن انیس سو اٹھاسی میں مسلح تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

مظفرآباد کے شمال مشرق میں واقع وادی نیلم کے قصبے اٹھمقام میں سنیجر کے روز عینی شاہدین کے مطابق دو گھنٹے کے لئے دکانیں بند رکھی گئیں اور سینکڑوں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ حالیہ مہنیوں میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت میں مبینہ طور پر تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے ان کو خدشہ ہے کہ لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائر بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اس علاقے کا امن ایک بار پھر متاثر ہوسکتا ہے۔

اس طرح کا دوسرا مظاہرہ
 عسکریت پسندوں کی مبینہ موجودگی کے خلاف وادی نیلم میں کوئی ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ اس سے قبل پچھلے مہینے کے شروع میں خواتین نے عسکریت پسندوں کو علاقے سے باہر نکالنے کے لئے مظاہرہ کیا تھا۔
مظاہرین نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ لائن آف کنڑول پر امن برقرار رکھنے کی خاطر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر روک لگائی جائے اور وادی نیلم کے علاقے کو ان سے پاک کیا جائے۔

اس مظاہرے میں ایک وکیل میر شرافت نے کہا کہ کافی عرصے بعد یہ مسلح لوگ دوبارہ وادی نیلم میں نظر آرہے ہیں اور ان کی موجودگی کے باعث لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ان کے حلیے اور زبان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشمیری نہیں ہیں اور ان کا کشمیر کے کسی بھی حصے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ باہر سے آئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ’یہ لوگ حالات خراب کرنا چاہتے ہیں اور وادی نیلم کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ان لوگوں پر روک لگائی جائے۔‘

مظاہرین کا کہنا ہے کہ لائن آف کنڑول پر فائر بندی کے باعث ’ہم نے سکھ کا سانس لیا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہو۔‘ بعد ازاں وہ پیدل مارچ کرتے ہوئے علاقے کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک گئے اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

لائن آف کنڑول پر نومبر سن دو ہزار تین میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے قبل گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

دونوں ملکوں کی افواج کی گولہ باری کے تبادلے کے نتیجے میں وادی نیلم کا خط سب سے زیادہ متاثرہ ہوا تھا اور سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

عسکریت پسندوں کی مبینہ موجودگی کے خلاف وادی نیلم میں کوئی ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ اس سے قبل پچھلے مہینے کے شروع میں خواتین نے عسکریت پسندوں کو علاقے سے باہر نکالنے کے لئے مظاہرہ کیا تھا۔

لائن آف کنڑول پر برسوں جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد نومبر سن دو ہزار تین میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ ہوا اور اس دوران اب تک کم و بیش سکون رہا البتہ مئی دو ہزار آٹھ سے اب تک ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے۔

ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ مسلح کرنے اور لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بھیجنے کا الزام لگاتا رہا لیکن پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد