بھارت سےتیل درآمد کرنے کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے مالی سال سنہ دو ہزار آٹھ اور نو کے لیے نئی تجارتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بھارت سے تیل اور ڈیزل سمیت متعدد اشیاء کی درآمد کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا اعلان وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وزیر تجارت احمد مختار نے ایک نیوز بریفنگ میں کیا اور بتایا کہ اب بھارت سے سٹین لیس سٹیل، کاٹن یارن یعنی دھاگہ، کتابیں، معدنیات سے متعلق مشینری اور آلات، سی این جی بسز بھی منگوائی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بھارت سے تجارت کو فروغ دینا چاہتی ہے اور متعدد اشیاء جن پر بھارت سے درآمد کرنے پر پابندی ہے وہ ختم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اور اس بارے میں فہرست جلد جاری ہوگی۔ وزیر تجارت نے بتایا کہ تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں سیاسی عدم استحکام، امن امان، بم دھماکوں، خود کش حملوں، بجلی کی قلت اور اس کی قیمتوں میں اضافے، تیل اور خوراک سمیت متعدد اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جہاں تجارتی خسارہ بیس اعشاریہ سات ارب ڈالر ہوگیا وہاں برآمدات بھی متاثر ہوئیں۔
’سب سے بڑا نقصان محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل ہے جس سے اس ملک پر سیاہ بادل چھا گئے اور پانچ روز تک جو احتجاج جاری رہا اس کی وجہ سے برآمدات پر بیس کروڑ ڈالر کا فرق پڑا۔‘ احمد مختار نے بتایا کہ تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں برآمدات انیس اعشاریہ دو ارب ڈالر رہیں اور رواں مالی سال کے لیے حکومت نے برآمدات کا ہدف بائیس ارب ڈالر مقرر کیا ہے۔ وزیر نے بتایا کہ خصوصی زونز میں صنعتی یونٹ لگانے کے لیے جو مشینری درآمد ہوگی اس پر ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، سونے، چاندی، ڈائمنڈ، پلوٹونیم اور دیگر دھاتوں اور قیمتی پتھروں کی برآمد پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت نے افغانستان کو تجارتی سہولیات دینے کی خاطر ان کے دو صوبوں پکتیکا اور خوست کے قریب سرحد پر کسٹم چیک پوسٹ قائم کی جائے گی۔ جس سے ان کے مطابق افغانستان کی درآمد کردہ اشیاء پر ٹرانسپورٹ کی لاگت میں کمی ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے برآمدات کا نصف حصہ صرف دنیا کے سات ممالک امریکہ، برطانیہ، جرمنی، ہانگ کانگ، دبئی اور سعودی عرب تک محدود ہے۔ ان کے مطابق نئی پالیسی میں نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی۔ احمد مختار نے کہا کہ دنیا میں پانچ ہزار سے زائد برآمدی اشیاء کا کاروبار ہوتا ہے جبکہ پاکستان ساڑھے تیرہ سو کے قریب چیزوں کی برآمد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت کی اولین ترجیح برآمدی اشیاء کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ وزیر تجارت نے بتایا کہ پہلے تین سال تک پرانی بسیں باہر سے منگوائی جاسکتی تھیں لیکن اب حکومت نے دس سال پرانی بسیں بھی منگوانے کی اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق نئی تجارتی پالیسی میں فارماسٹیکل اور کیمیکل کمپنیوں کے لیے بھی مراعات دی گئی ہیں اور ہربل میڈیسن کی بیرون ممالک رجسٹریشن کی فیس میں پچاس فیصد تک اخراجات حکومت اٹھائے گی۔ | اسی بارے میں روپے کی قدر میں’ریکارڈ کمی‘08 July, 2008 | پاکستان ’معیشت کیلیے اچھا سال نہیں تھا‘10 June, 2008 | پاکستان پاک، ترک تجارت بڑھانے پر اتفاق19 April, 2008 | پاکستان کپاس درآمد کرنے کی اجازت23 January, 2008 | پاکستان ’بجلی کا بحران دس دن جاری رہے گا‘04 January, 2008 | پاکستان کراچی: فوج تعینات کرنے کا مطالبہ31 December, 2007 | پاکستان تجارتی سرگرمیاں ابھی تک معطل31 December, 2007 | پاکستان چھتیس فیکٹریاں تباہ، کرفیو کا مطالبہ29 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||