BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تجارتی سرگرمیاں ابھی تک معطل

اندرونِ سندھ کئی علاقوں میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور ٹرک چلنا بند ہوگئے ہیں
جمعرات کو بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے شروع ہونے والی شدید ہنگامہ آرائی کا سلسلہ گو کہ ماند پڑا ہے لیکن اب پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں اربوں روپے کی برآمدات اور تجارتی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہوگئیں ہیں۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے سبزیوں کی قیمتوں میں سو فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

ڈیڑھ کروڑ آبادی کے اس شہر میں گزشتہ چار دنوں کی طرح پیر کو بھی خوف و دہشت کا راج رہا اور روز مرہ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں۔ ہنگامہ آرائی کے باعث بازار اور دکانیں بند رہیں۔ جو کاروبار گھنٹوں کے لیے کھلتے ہیں انہیں بھی طاقت کے بل پر بند کرایا جا رہا ہے اور سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات درپیش ہو رہی ہے۔

سبزی منڈی پیر کو تین روز کے بعد کھلی لیکن فلاحی انجمن ہول سیل ویجیٹیبل ایسوسی ایشن کے نائب صدر وقار احمد نے کہا کہ سامان کی ترسیل اسی صورت میں ممکن ہو سکے گی جب حکومت انہیں نقصان کی تلافی کرے ۔انہوں نے کہا کہ سبزی منڈی میں پھنسے ہوئے ٹرک سبزی لے کر آئے لیکن سبزی کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں کی قیمت میں گرانی نہیں آئی۔

ان کا کہنا ہے کہ پیر کو افواہوں کی وجہ سے ہائی وے اور اندرونِ سندھ کئی علاقوں میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور ٹرک چلنا بند ہوگئے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو سامان کی ترسیل نہیں ہوسکے گی اور سبزیاں اور پھل کراچی نہیں پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس جانب توجہ دے اور امن و امان قائم کرے۔

اندرونِ سندھ امن عامہ کی صورتحال دگرگوں ہونے کے باعث مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت ہائی وے پر مشکلات کا شکار ہے۔ کراچی گڈز کیرئیرز ایسوسی ایشن کے سربراہ یوسف ہارون خان نے کہا کہ ہائی وے پر سینکڑوں کی تعداد میں مال بردار گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے امن و امان قائم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے اگر حکومت چاہے تو فوری طور پر ایسا کرسکتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے جیسے حکومت امن قائم کرنا نہیں چاہتی۔

دوسری جانب شہر میں ہنگامہ آرائی کے باعث تجارتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ہارون آگر نے بتایا کہ درجنوں فیکٹریوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے اور نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے جبکہ خراب حالات کی وجہ سے اربوں روپے کی برآمدات بھی رکی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سے چار دنوں سے انڈسٹریز میں پیداوار بھی تعطل کا شکار ہے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔

شرپسندوں نے شہر میں دکانیں ہوائی فائرنگ کرکے بند کرا دی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، تجارتی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں، ہسپتالوں میں مریض پریشان ہیں اور شہر میں سراسمیگی چھائی ہوئی ہے، البتہ حکومتی اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ امان و امان کی صورتحال پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
کے ای ایس سی کی نجکاری منظور
07 February, 2005 | پاکستان
کے ای ایس سی کم قیمت
04 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد