پاک، ترک تجارت بڑھانے پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور ترکی نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم ساٹھ کروڑ نوے لاکھ ڈالر سے بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بات کا اعلان ترکی کے وزیر خارجہ علی بابا جان اور پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سنیچر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری دفاعی پیدوار کے منصوبوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کسی شخصی بنیاد پر قائم نہیں ہوئے بلکہ دونوں ملک مذہبی اور بھائی چارے کے مضبوط بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ کا اجلاس بلانے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اس کا اجلاس آئندہ ماہ ہوگا جس میں افغانستان کے مسئلے پر سربراہ کانفرنس بلانے کے بارے میں حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس ورکنگ گروپ کا اجلاس اس سال جنوری میں ہونا تھا لیکن پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کی وفات کی وجہ سے یہ اجلاس نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سربراہ کانفرنس جون میں متوقع ہے جس میں پاکستان، ترکی اور افغانستان کے سربراہان شرکت کریں گے۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات انتہائی کامیاب رہی اور ملاقات میں باہمی علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بات ہوئی اور دونوں لیڈروں کے درمیان ان معامالات پر مکمل ہم آہنگی پائی گئی۔ علی بابا جان نے کہا کہ ان کا ملک نئی پاکستانی حکومت سے ملکر کر کام کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ ہونے والے عام انتخابات شفاف ہوئے ہیں جس میں عوام نے اپنی پسند کے نمائندوں کو واضح مینڈیٹ دیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام جمہوریت پسند ہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے، اُس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی ادارے اور عوام ملکر کام کریں۔ ایک سوال کے جواب میں علی بابا جان نے کہا کہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایک اہم جگہ پر واقع ہے اور وہ جنوب ایشائی اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترکی اور پاکستان افعانستان کی تعمیر نو کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ سے جب یہ پوچھا گیا کہ ترکی کے کچھ افراد کو انتہا پسندی اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے تو اس پر انہوں نے لاعلی کا اظہار کیا تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ | اسی بارے میں ترکی صدارتی انتخابات کالعدم01 May, 2007 | پاکستان نوٹ پاکستان کا، جھنڈا ترکی کا 08 August, 2007 | پاکستان مصالحت: پہلے سعودیہ اب ترکی04 December, 2007 | پاکستان تجارتی سرگرمیاں ابھی تک معطل31 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||