مصالحت: پہلے سعودیہ اب ترکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی کے صدر عبداللہ گل دنیا کے پہلے سربراہ حکومت ہیں جنہوں نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ اور آئین کی معطلی سمیت تمام اقدامات کی کھل کر حمایت کی ہے۔ عبداللہ گل صدر پرویز مشرف کی دعوت پر ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آنے والے پہلے سربراہ مملکت ہیں۔ مہمان صدر نے جہاں میزبان ملک کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں وہاں حزب مخالف کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں سے بھی ملے۔ بینظیر بھٹو، نواز شریف، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمٰن اور عمران خان سے ملاقاتوں میں ترک صدر نے ان پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے نازک حالات کو سمجھیں اور ملکی مفاد میں متحد ہوجائیں۔انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ آٹھ جنوری کے عام انتخابات کا بائیکاٹ نہ کریں۔ ترک صدر نے اپنے میزبان ہم منصب سے مشترکہ نیوز بریفنگ سے بھی خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ریاست کے استحکام کے لیے جمہوریت ضروری ہوتی ہے لیکن متعلقہ ملک کے حالات کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ پاکستان کے حالات کو نظر میں رکھ کر فیصلہ کریں۔ ترک صدر تو پیر کی شب ہی واپس چلے گئے لیکن ان کی مصروفیات کی خبریں منگل کو بیشتر اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کی ہیں۔
لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تین نومبر کو صدر مشرف کی جانب سے آئین معطل کرکے ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد سعودی عرب یا چین میں سے حق میں آواز نہ آنے کے بعد صدر مشرف کو اپنی مدد کے لیے ترک ہم منصب کو بلانا پڑا۔ ترک صدر کی جانب سے صدر پرویز مشرف کی کھل کر حمایت کرنے پر ایک صحافی نے کہا کہ اتنی حمایت تو چودھری شجاعت نے بھی نہیں کی۔ پاکستان میں آئین کی معطلی اور ایمرجنسی کے نفاذ پر جب دولت مشترکہ نے رکنیت معطل کی، یورپی یونین اور دیگر نے جب احتجاج کیا تھا تو حکومت نے اُسے’اندرونی معاملات میں مداخلت‘ قرار دیا تھا۔ لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب جس طرح ترکی کے صدر کو مدعو کرکے صدر پرویزمشرف کے حق میں بیان دلوایا گیا ہے اور حزب مخالف کے رہنماؤں پر پرویز مشرف کی حمایت کے لیے زور دیا ہے، ان کا یہ عمل بھی ایک لحاظ سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ اس بارے میں قاضی حسین احمد نے اپنے ابتدائی رد عمل میں کہا ہے کہ انہیں حیرت ہے کہ ایک دوست ملک کا صدر کیسے ایک آمر کی حمایت کرتا ہے۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنا رد عمل دینے سے بھی گریزاں ہیں۔ اس بارے میں جب سفارتی امور کے ماہر اور پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ نجم الدین شیخ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کسی ریاست کے سربراہ کو اس طرح کرنا نہیں چاہیے۔ لیکن ان کے بقول پہلے بھی پاکستان میں دیگر ممالک کے سربراہان اندرونی معاملات کے بارے میں مداخلت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا معاملہ ہو یا کوئی دیگر مسئلہ ترکی اور سعودی عرب سمیت بعض ممالک اس بارے میں تجاویز دیتے رہے ہیں۔ سابق سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ ویسے تو انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے آنے والے مبصرین بھی اندرونی معاملات میں مداخلت ہے لیکن آج کل کے بدلے ہوئے حالات میں تقاضے بھی مختلف ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||