نوٹ پاکستان کا، جھنڈا ترکی کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کے سپیکر نے سٹیٹ بنک کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والے ایک ہزار کے کرنسی نوٹ پر پاکستان کے بجائے ترکی کے قومی پرچم کی چھپائی کے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ کرنسی نوٹ پر اس غلطی کی نشاندہی حکومتی رکن قومی اسمبلی رشید اکبر نے بدھ کے روز اجلاس کی کارروائی کے دوران کی۔ خارجہ پالیسی پر جاری بحث کے دوران حکومتی رکن نے نکتہ اعتراض پر ایوان کی توجہ ایک ہزار کے نئے کرنسی نوٹ پر چھپے پرچم کی جانب دلواتے ہوئے کہا کہ اس کرنسی نوٹ کے سامنے والے حصے پر چھپے پرچم کا رنگ سرخ ہے جو کہ ترکی کا پرچم ہے اور یہ پاکستان کے سبز ہلالی پرچم سے کسی طور مشابہت نہیں رکھتا۔ خزانے کے وزیر مملکت عمر ایوب خان نے اس نکتہ اعتراض کے جواب میں کہا کہ وہ یہ معاملہ سٹیٹ بنک کے علم میں لائیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے اس موقع پر اپنی آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور وزیر موصوف حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں اور سٹیٹ بنک حکومت کے قواعد کے تابع ہے لہذٰا اس معاملے کا صرف علم میں لانا کافی نہیں ہے۔ سپیکر نے کہا کہ وہ اسی سے متعلق ایک اور معاملے کو بھی وزیر خزانہ کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے کرنسی نوٹس پر پن لگانے پر پابندی کے باعث اب نوٹوں کی گڈی پر ایک ربڑ باندھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بنک سے آنے والی نوٹوں کی گڈی سے ایک آدھ نوٹ کم ہونے کی شکایت عام ہوگئی ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ پرچم کے رنگ والا معاملہ حکومت کے علم میں پہلے سے ہے اور اس بارے میں سٹیٹ بنک سے استفسار کیا جا چکا ہے۔ حزب اختلاف کے رکن پرویز ملک نے وزیر خزانہ کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری کابینہ اور پھر وزیراعظم نے دی تھی لہذٰا اس معاملے کا الزام صرف سٹیٹ بنک کو نہیں دیا جا سکتا۔ سپیکر نے کہا کہ معاملہ خاصہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں۔ عمر ایوب کی جانب سے مخالفت نہ کیے جانے پر سپیکر نے یہ معاملہ ایوان کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے اسے مکمل تحقیقات کر کے ایک ماہ میں رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ | اسی بارے میں پانچ ہزار کا نوٹ، ملا جلا ردِعمل01 June, 2006 | پاکستان بیس روپے کا نوٹ کہاں گیا؟24 September, 2005 | پاکستان پاکستان: بیس روپے کے نوٹ کا اجراء05 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||