BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 July, 2008, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’موجودہ حکومت کے خلاف بھی احتجاج‘

جامع حفصہ
مشرف کے خلاف نعروں کی طرح اس حکومت کے خلاف بھی مظاہرے ہوں گے : امِ حسان
لال مسجد خواتین شہداء کانفرنس کے شرکاء نے خبردار کیا ہے کہ اُن کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ موجودہ حکومت کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان نے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں سب سے بڑی رُکاوٹ موجودہ جمہوری نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام صرف خلافت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں جنہوں نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ایک سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اس مدرسے کی تعمیر شروع نہیں کی۔

کانفرنس میں چھ جولائی کو ہونے والی مردوں کی کانفرنس میں جاری ہونے والے اعلامیے کی تائید کی گئی جس میں لال مسجد کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن ، مولانا عبدالعزیز کی رہائی ، اُن کے خلاف مقدمات کا خاتمہ، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر اور جامعہ فریدیہ کو دوبارہ کھولنا شامل ہیں۔

اُم حسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کانفرنس کے بارے میں بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد گزشتہ برس انہی دنوں لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں جو خون کی داستان رقم کی گئی تھی اور ہمارے جوانوں نے نفاذ اسلام کی خاطر قربانیاں دیں ان کی یاد کو تازا کرنا ہے اور حکومت سے اپنے مطالبات کو منوانا ہے ۔

اُم حسان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حکومت بھی سابق حکومت کی طرح خاموش رہی تو پھر جیسے ملک بھر میں گو مشرف گو کے نعرے لگ رہے ہیں اُسی طرح اس حکومت کے خلاف مُطاہرے ہوں گے اور ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔

انہوں نے کہا صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے لال مسجد کے بارے میں غلط حقائق دنیا میں پیش کیے اور لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن سے اُن کے روشن خیالی کے دعووں کی نفی ہوگئ ہے۔

خواتین کانفرنس کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور خواتین پولیس اہلکاروں کو وہاں پر تعینات کیا گیا تھا تاہم کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے مرد پولیس اہلکاروں کو سٹینڈ بائی رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس جولائی میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف فوجی کارروائی میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سابق حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں محصور مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تھی اور اس آپریشن کے بعد جامعہ حفصہ کو مُسمار کردیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد