BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 May, 2008, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جامعہ حفصہ کی طالبات کا احتجاج

 جامعہ حفصہ (فائل فوٹو)
لال مسجد کی طالبات نے صدر مشرف کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے
لال مسجد اور گرائے جانے والے خواتین کے مدرسے جامعہ حفصہ کے طلباء اور طالبات نےمطالبہ کیا ہے کہ لال مسجد کے خلاف کیے جانے والے فوجی آپریشن پر صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور اُن کے حوایوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

جمعہ کی نماز کے بعد لال مسجد کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ان طلباء اور طالبات نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ ان تمام واقعات کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کے خلاف سحت کارروائی کی جائے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد سے پاکستان مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ حکمراں اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ملک سے بھاگنے نہیں دیں گے اور اُن افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائےگا جو سینکڑوں بیگناہوں کے قتل میں ملوث ہیں۔

ہیومن رائٹس ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین خالد خواجہ نے کہا کہ انہوں نے لال مسجد آپریشن کے دوران معصوم طلباء و طالبات کی ہلاکت پر اسلام آباد کے مقامی تھانے میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف، سابق وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ سمیت اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستیں دی ہیں تاہم ابھی تک ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

لال مسجد
واضح رہے کہ جولائی سنہ دو ہزار سات میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔

اسی فوجی کارروائی کے دوران لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی اور اُن کی والدہ بھی جاں بحق ہوگئی تھیں۔

مظاہرین نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ تحقیقات کے حوالے سے دیئے جانے والے احکامات پر عملدرآمد کروائیں۔

خالد خواجہ نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جج جسٹس نواز عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے متعلقہ حکام کو فوجی آپریشن کے بعد گرائے جانے والے طالبات کے مدرسے جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا تھا لیکن اُس پر ابھی تک عمدرآمد نہیں ہوسکا۔

اس موقع پر مظاہرین نے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اُن کے حق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد