BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد: روزانہ سماعت کا حکم

ام حسان اور بیٹیاں
ام حسان اور بیٹیوں کی ضمانت کی درخواستیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ رخصت پر گئے ہوئے انسداد دہشت گردی کے جج کی جگہ دوسرے جج کو تعینات کر کے لال مسجد سے متعلق مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کو یقینی بنائے۔

چیف جسٹس نے نئے جج کی تعیناتی کے لیے پنجاب حکومت کو چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے موجود جج سخی محمد کہوٹ آجکل رخصت پر ہیں۔ ان کی عدالت میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان اور بیٹیوں کی ضمانت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

جمعہ کو لال مسجد آپریشن کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنی نوکریاں بچانے کے لیے لوگوں پر ظلم مت کریں اور انہیں ایسے جھوٹے مقدمات میں ملوث نہ کریں جنہیں بعد میں وہ ثابت نہ کر سکیں۔

نوکریاں بچانے کے لیے ظلم
 اپنی نوکریاں بچانے کے لیے لوگوں پر ظلم مت کریں اور انہیں ایسے جھوٹے مقدمات میں ملوث نہ کریں جنہیں بعد میں وہ ثابت نہ کر سکیں
چیف جسٹس

انہوں نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ایسے غیر متعلقہ افراد کو آج ہی رہا کردیا جائے جنہیں لال مسجد کے واقعہ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے لال مسجد کے مسئلے سے نا مناسب طور پر نمٹنے پر متعلقہ حکام کی سرزنش کی اور سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ وہ لال مسجد کے متعلق تمام معاملات خود سنبھالیں اور مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں خود عدالت میں پیش ہوں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ لال مسجد کے مقدمے میں اس وقت اکسٹھ افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن میں سے بائیس افراد کو جمعہ کو رہا کیا جا رہا ہے۔

حشمت حبیب ایڈوکیٹمعاملہ دب سکتا ہے
لال مسجد معاملے کے از خود نوٹس پر خدشات
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
 عینی شاہدین کے مطابق ایک ایک تابوت میں دو دو لاشیں دفن کی گئیںہلاکتوں کی تعداد
لال مسجد میں ہلاکتوں کی تعداد پر شکوک
لال مسجد آپریشن
والدین بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
اسی بارے میں
عبدالرشید سے مولانا
04 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد