لال مسجد: روزانہ سماعت کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ رخصت پر گئے ہوئے انسداد دہشت گردی کے جج کی جگہ دوسرے جج کو تعینات کر کے لال مسجد سے متعلق مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کو یقینی بنائے۔ چیف جسٹس نے نئے جج کی تعیناتی کے لیے پنجاب حکومت کو چوبیس گھنٹوں کی مہلت دی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے موجود جج سخی محمد کہوٹ آجکل رخصت پر ہیں۔ ان کی عدالت میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان اور بیٹیوں کی ضمانت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ جمعہ کو لال مسجد آپریشن کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنی نوکریاں بچانے کے لیے لوگوں پر ظلم مت کریں اور انہیں ایسے جھوٹے مقدمات میں ملوث نہ کریں جنہیں بعد میں وہ ثابت نہ کر سکیں۔
انہوں نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ایسے غیر متعلقہ افراد کو آج ہی رہا کردیا جائے جنہیں لال مسجد کے واقعہ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے لال مسجد کے مسئلے سے نا مناسب طور پر نمٹنے پر متعلقہ حکام کی سرزنش کی اور سیکرٹری داخلہ کو حکم دیا کہ وہ لال مسجد کے متعلق تمام معاملات خود سنبھالیں اور مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں خود عدالت میں پیش ہوں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ لال مسجد کے مقدمے میں اس وقت اکسٹھ افراد پولیس کی حراست میں ہیں، جن میں سے بائیس افراد کو جمعہ کو رہا کیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں توہینِ قرآن کے مقدمے کا مطالبہ05 August, 2007 | پاکستان سات مرلے جائز، اٹھارہ کنال ناجائز24 July, 2007 | پاکستان عبدالرشید سے مولانا04 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: مولانا عبدالعزیز برقعے میں گرفتار04 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||