BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا عبدالعزیز، ایک اورضمانت

مولانا عبدالعزیز
مولانا عبدالعزیز نے لال مسجد آپریشن کے دوران برقعہ اوڑھ کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے جمعہ کے روز لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف اگست دو ہزار پانچ میں درج ہونے والے مقدمے میں ان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

عدالت نے وکیل صفائی کو حکم دیا ہے کہ وہ پچاس ہزار کے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔

واضح رہے کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف پچیس سے زائد مقدمات درج ہیں جن میں جن میں سے دو مقدمات میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے۔ ان مقدمات میں زیادہ تر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔

اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ملزم کے وکیل حشمت حبیب نے کہا کہ پانچ اگست دو ہزار پانچ میں تھانہ آبپارہ میں ان کے موکل کے خلاف درج ہونے والہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز نے جمعہ کے خطبہ کے لیے لاوڈ سپیکر کا استعمال کیا اور کسی بھی مسجد کا خطیب جمعہ کے خطبےکے لیے لاوڈ سپیکر کا استعمال کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس نے ان کے مؤکل کے خلاف انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

وکیل استغاثہ راجہ قیوم نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالعزیز نے جمعہ کے خطبے کے دوران لوگوں کے جذبات کو بھڑ کایا تھا اور انہیں حکومت کے خلاف جہاد رکھنے کو کہا تھا لہذا ان کی درخواست کی ضمانت منظور نہ کی جائے۔

حشمت حبیب نے لال مسجد کے ایک وکیل وجیہ اللہ کے خلاف درج تین مقدمات میں جن میں چینی باشندوں کے اغوا، تین پولیس اہلکاروں کے اغوا اور آبپارہ مارکیٹ میں وڈیو کیسٹ کے دکانداروں کو دھمکیاں دینا شامل ہیں کی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔

اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تینوں مقدمات میں ان کے مؤکل کا نام نہیں ہے اور پولیس نے انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ان کے مؤکل کے خلاف اب تک کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔

وکیل استغاثہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کے طالبعلموں کو چینی باشندوں اور پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے پر اکسایا تھا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ سنیچر تک محفوظ کر لیا۔

ادھر حشمت حبیب نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر دو افراد کو لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی عبدالرشیدغازی کے ساتھ تعلقات کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سید ناصر علی شاہ کوچودہ اپریل دو ہزار سات کو اکوڑہ خٹک سے جبکہ عبدالباسط کو اکیس اپریل کو ضلع کچہری لاہور سے اغوا کیا گیا اور تاحال دو افراد لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ افراد لال مسجد اور جامعہ فریدیہ میں دینی کتابیں فراہم کر تے تھے جس کی وجہ سے ان افراد کے لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کی انتظامیہ کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطے تھے جس کی بنا پر خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس درخواست کو بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت لاپتہ ہونے والے افراد کےمقدمے کے ساتھ شامل کیا جائے۔

صوبہ سرحد میں نامعلوم نقاب پوش آپریشن کے بعد
لال مسجد آپریشن کے بعد حملوں کا سلسلہ
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
جوادبھاگے تو گولی
سنیچر کو مسجد سے بھاگنے والے بچے کا بیان
احتجاج فائل فوٹو برقعے نے ڈبو دیا
برقعہ میں فرار نے حامیوں کو مایوس کر دیا
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد