جامع حفصہ: علامتی تدریس کا عمل جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں لال مسجد سے متصل جامعہ حفصہ کے ملبے پر دوسرے دن بھی طالبات نے پڑھائی کا علامتی عمل جاری رکھا۔ لال مسجد ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی اس کلاس میں تیس کے قریب کم سن بچوں نے حصہ لیا جنہیں دو گاڑیوں میں لایا گیا تھا۔ ان کے ساتھ چار معلمات بھی تھیں۔ لال مسجد ایکشن کمیٹی نے اتوار کے روز لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک کانفرس میں اعلان کیا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جاتا، اس وقت تک علامتی کلاسوں کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز شام چھ سے سات بجے تک پہلی علامتی کلاس ہوئی تھی۔ منگل کے روز بھی تیس کے قریب بچوں نے جامعہ حفصہ کے ملبے پر دریاں بچھا کر ایک گھنٹے تک قرآن کی تلاوت کی۔ اس علامتی کلاس میں حصہ لینے والی بچوں میں سے زیادہ تر کی عمر دس سال سے کم تھی۔ ان بچوں کے والدین ان کے ہمراہ نہیں تھے۔ بچے دو گاڑیوں سے اتر کر ایک لائن میں چلتے ہوئے پہلے سے بچھائی گئی دریوں پر بیٹھ گئے اور جیسے ہی ان کو اشارہ کیا گیا تو اشارے کے منتظر بچوں نے قرآن کی تلاوت شروع کر دی۔ اس موقع پر میڈیا کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لیکن کسی بھی بچے نے سر اٹھا کر کیمرے کی طرف نہیں دیکھا۔ جیسے ہی پڑھائی کا گھنٹہ مکمل ہوا تو تمام بچے لائن بنا کر گاڑیوں میں سوار ہو کر واپس چلے گئے۔ اس موقع پر قریبی رہائشی آبادی سے چند خواتین بھی علامتی کلاس کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئیں۔ تدریسی کلاس کے قریب ہی کھڑے لال مسجد ایکشن کمیٹی کے ترجمان مفتی عبدالرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ علامتی کلاس ہے جو کہ صرف دس دنوں کے لیے ہو گی۔
’اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو دس دن کے بعد اسی جگہ پر کلاسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا اور ایسا ہی ایک مظاہرہ جامعہ فریدیہ کے باہر بھی کیا جائے گا جسے لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ لال مسجد آپریشن کے بعد جامعہ حفصہ کو گرایا گیا تو ہزاروں کی تعداد میں طالبات مختلف مدرسوں میں چلی گئی تھیں جنہیں اب واپس بلایا جائے گا۔ ’تمام طالبات اس وقت تک جامعہ حفصہ کے ملبے پر خیمے لگا کر رہیں گی جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے ہیں۔‘ مفتی عبدالرحمان نے بتایا کہ شہداء لال مسجد کانفرس کی طرح بدھ کے روز خواتین کی کانفرس لال مسجد کے احاطہ میں ہو گی جس کی صدارت لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام احسان کریں گی۔ انہوں نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف سمیت لال مسجد آپریشن میں ملوث تمام سیاسی اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے، لال مسجد کے گرفتار خطیب مولانا عبدالعزیز کو رہا کیا جائے، جامعہ فریدیہ کو دوبارہ کھولا جائے اور جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ اس موقع پر جامعہ حفصہ کی طالبہ اور تدرسی کلاس کی معلماء حفصہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تدریس میں حصہ لینے والی زیادہ تر بچیوں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ حفصہ مسمار کیے جانے کے بعد اپنے گھروں کو واپس جانے والی بہت ساری طالبات واپس آنا چاہتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||