BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 May, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سات مقدمات میں ضمانت ہوگئی

لال مسجد کے آپریشن میں مولانا عبدالعزیر کے بھائی ہلاک ہو گئے تھے
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے منگل کے روز لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی سات مقدمات میں ضمانت منظور کرلی جبکہ ایک مقدمے میں ان کی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

لال مسجد کے سابق خطیب کے خلاف ستائیس مقدمات درج کیے گئے تھے جن میں سے چھبیس مقدمات میں ان کی ضمانت ہوچکی ہے جبکہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے درمیان بچوں کی لائبریری پر قبضے کے مقدمے میں عدالت نے اُن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منگل کے روز ان آٹھ مقدمات کی ضمانت کی درخواست پر جب سماعت شروع ہوئی تو ملزم مولانا عبدالعزیز کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ قاف کے سابق دور حکومت میں ان کے مؤکل کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقدمات جنوری سنہ دوہزار سات سے لیکر جولائی سنہ دو ہزار سات کے درمیان درج کیے گئے تھے اور اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود پولیس اُن کے مؤکل کے خلاف کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف یہ تمام مقدمات صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے احکامات پر درج کیے گئے تھے۔

شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف ستائیس مقدمات میں سے بائیس مقدمات انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے جن میں سے اکیس مقدمات میں اُن کی ضمانت ہوچکی ہے جن میں لال مسجد آپریشن کے دوران رینجر کے اہلکار کا قتل، اسلام آباد کے علاقے ایف ایٹ مرکز میں واقع مساج سینٹر سے چینی باشندوں کے اغوا اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کے مقدمات بھی شامل ہیں ان سب میں اُن کی ضمانتیں ہوچکی ہیں۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اُن کے مؤکل کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی جائیں۔ سرکاری وکیل نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے اقدامات کی وجہ سے نہ صرف ملک کی جگ ہنسائی ہوئی بلکہ چادر اور چاردیواری کا تقدس بھی پامال ہوا لہذا ان کی ضمانت کی درخواست منظور نہ کی جائے۔

عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمن نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور بعدازاں مولانا عبدالعزیز کی سات مقدمات میں ضمانتیں منظور کر لیں۔ جن مقدمات میں مولانا عبدالعزیز کی ضمانت منظور کی گئی ہے اُن میں جی سکس کی رہائشی آئنٹی شمیم کے گھر پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طالب عملوں کا حملہ، پولیس اہلکاروں کا اغوا، میوزک سینٹر بند کروانے، تین مقدمات پمفلٹ تقسیم کرنے کے جبکہ سنہ دوہزار چار میں ایک پریس کانفرنس کرنے کا مقدمہ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مولانا عبدالعزیز کے وکیل کا کہنا ہے کہ جس مقدمے میں اُن کے مؤکل کی ضمانت کی درخواست مسترد ہوئی ہے وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوبارہ ضمانت کی درخواست دائر کریں گے۔

سماعت کے دوران لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کے طلباء کی بڑی تعداد کمرہ عدالت کے باہر موجود تھی اور راولپنڈی پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے تھے۔

واضح رہے کہ جولائی سنہ دوہزار سات میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے مولانا عبدالعزیز کو اُس وقت گرفتار کر لیا جب وہ برقع پہن کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

پولیس نے لال مسجد کے سابق خطب، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو حراست میں لے لیا تھا تاہم عدالت نے ان خواتین کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد