’بیٹے کی تدفین جامعہ میں نہ ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مولا عبدالعزیز نے لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے بیٹے کی میت لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جمعہ کی دوپہر مولانا عبدالعزیز کو اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں پولیس کی کڑی نگرانی میں لایا گیا، اس موقع پر قبرستان میں ان کی اہلیہ اور بہنوں سیمت دیگر رشتے دار بھی موجود تھے۔ جمعرات کے روز سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نےمولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کو حسان کی تدفین کے لیے پیرول پر رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس موقعہ پر اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے عدالت کو بتایا تھا کہ حسان کی لاش کی شناخت ہو چکی ہے اور اس کو ایچ الیون قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مرحوم کے لواحقین جب چاہیں حسان کی میت کو وہاں سے نکال کر ان کے حوالے کی جا سکتی ہے۔ اس پر عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ حسان کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کردی جائے تاکہ ان کی تدفین جمعہ کے روز ہوسکے۔ لیکن جمعہ کو مولانا عبدالعزیز کے پھوپھی زاد بھائی محمد ایوب کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کا اصرار تھا کہ وہ صرف اُسی صورت اپنے بیٹے کی میت لیں گے جب اُنہیں اسے جامعہ فریدیہ میں مولانا عبداللہ مرحوم کے پہلو میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ حسان کی میت کو جامعہ فریدیہ میں دفنانے کی اجازت نہیں دیں، جس پر مولانا عبدالعزیز قبرستان سے واپس سے چلے گئے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد ایوب نے مولانا عبدالعزیز کے ہاتھ کا لکھ ہوا ایک خط بھی دکھایا جس میں سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی تھی اُن کے بیٹے حسان اور اُن کی والدہ کو جامعہ فریدیہ میں مولانا محمد عبداللہ کے پہلو میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب اسلام آباد صدر سرکل کے مجسٹریٹ رانا اکبر حیات کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالعزیز کی خواہش ہے کہ قبر کے اوپر حسان کے نام کی تختی لگا دی جائے لیکن قبر کو پختہ نہ کیا جائے۔ جمعے کے دن اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی پانچ طالبات سدرہ المنتہاہ، عُمامہ، عائشہ، فاطمہ اور زہرا نے بھی جناح سیڈیم میں پریس کانفرنس کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ اُنہوں نے اپنے طور پر جامعہ حفصہ کی لاپتہ طالبات کی بازیابی کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ پانچوں طالبات ہر روز صبح سے شام تک جناح سٹیڈیم میں بیٹھا کریں گی تاکہ لاپتہ طالبات کے والدین اُن سے آ کر مل سکیں۔ پریس کانفرنس کی شرکاء کا کہنا تھا کہ اُن کے دل سے موت کا ڈر ختم ہو گیا ہے اور وہ مزید گھر میں نہیں بیٹھ سکتیں تھیں جس کے بعد اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ باہر نکل کر اپنی لاپتہ بہنوں کے لیے آواز اُٹھائیں گی۔ یہ تمام طالبات جامعہ حفصہ آپریشن کے دوران باہر آئیں تھیں، پریس کانفرنس کے دوران ان طالبات نے جنرل مشرف اور موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک جن حالات سے اب گزر رہا ہے اس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پرعائد ہوتی ہے۔ پریس کانفرنس میں شریک سدرہ المنتہاہ کا کہنا تھا کہ اُنہیں ڈر ہے کہ کہیں اس پریس کانفرنس کے بعد اُنہیں بھی غائب نہ کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ یہ جامعہ حفصہ کی طالبات کی جانب سے پہلی پریس کانفرنس تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||