نیئر شہزاد اسلام آباد |  |
 | | | عدالت نے حکم دیا کہ ورثاء جہاں چاہیں لاش دفن کر سکتے ہیں |
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز، ان کی اہلیہ ام حسان اور دو بیٹیوں طیبہ عزیز اور عصمہ عزیز کو مولانا عبدالعزیز کے بیٹے حسان کی تدفین کے لیے پیرول پر رہائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ جمعرات کے روز سپریم کورٹ نے اس واقعہ کے بارے میں ہونے والی سماعت کے دوران حکم دیا کہ مرحوم کے لواحقین جہاں چاہیں اس کی تدفین کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ حسان کی لاش کی شناخت ہو چکی ہے اور اس کو آئی الیون قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے لواحقین جب چاہیں حسان کی میت کو وہاں سے نکال کر ان کے حوالے کی جا سکتی ہے۔عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا کہ حسان کی لاش ان کے ورثاء کے حوالے کردی جائے تاکہ ان کی تدفین جمعہ کے روز ہوسکے۔ جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لال مسجد سے گرفتار ہونے والے ایک سو چونتیس افراد کی گرفتاری کے حوالے سے پولیس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ پولیس نے اس ضمن میں مختلف مقدمات میں جعلی شہادتیں لگائی ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ زیرحراست افراد پرانے مقدمات میں مطلوب ہیں لہذا ان افراد کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔  | | | پولیس کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ لال مسجد سے گرفتار ہونے والے طلبہ کے خلاف جعلی شہادتیں لگائی گئی ہیں |
عدالت نے کہاکہ یہ جعلی دستاویز ہیں جو قابل قبول نہیں ہے۔عدالت نے ڈی ایس پی اور تھانہ بارہ کہو کے ایس ایچ او کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان افراد کو کچھ عرصہ پہلے گرفتار کیا ہے اور ان دستاویز سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ پرانے مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ عدالت نے وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے ڈاریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حکام کو پولیس کی اس حرکت کے بارے میں آگاہ کریں۔ اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا کہ گرفتار ہونے والے افراد کے ورثاء کو ان سے ملنے دیا جائے۔ عدالت نے ایس پی انوسٹیگیشن محمد اشفاق کو جو اس وقت عدالت میں موجود تھے حکم دیا کہ پولیس ان زیر حراست افراد کے ورثاء کو اپنے رشتہ داروں سے ملنے دے۔ عدالت نے لال مسجد مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کی انتطامیہ نے زیر حراست افراد کے رشتہ داروں کو ان سے ملاقات کے لیے اجازت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان زیر حراست افراد میں سے چالیس افراد کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں ان کے رشتہ داروں کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ |