مولاناعزیز کی اہلیہ، بیٹی کی ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور بیٹی کی قتل اور اغوا کے ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے جس کے بعد ان دونوں کی تمام مقدمات میں ضمانت ہوگئی ہے۔ راولپنڈی میں خصوصی عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمٰن نے پیر کو مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان اور ان کی بیٹی طیبہ دعا کے درخواست ضمانت آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد خواجہ اور لال مسجد کے پندرہ طلباء کی رینجر کے ایک اہلکار کے قتل اور ایف ایٹ سے چینی باشندوں کے اغوا کے مقدمات میں منظور کی ہے۔ عدالت نے وکیل صفائی کو حکم دیا کہ وہ ایک ایک لاکھ روپے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔ واضح رہے کہ ام حسان کے خلاف سات مقدمات جبکہ ان کی بیٹی طیبہ دعا کے خلاف تین مقدمات درج ہیں اور ان تمام مقدمات میں دونوں کی ضمانت ہوچکی ہے جبکہ ان کی چھوٹی بیٹی عصمہ عزیز کو پہلے ہی رہا کیا جاچکا ہے۔ ضمانت کی اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے درخواست گزاروں کے وکیل شوکت صدیقی نے کہا کہ پولیس نے ان کی مؤکلوں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا اور پولیس اس ضمن میں ابھی تک عدالت میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکی۔ وکیل صفائی نے کہا کہ پولیس نے تین جولائی کو جامعہ حفصہ کے باہر سات سو سے زائد طالبات کے مظاہرے میں ان خواتین کو کیسے پہچان لیا کہ رینجرز کے اہلکار کے قتل کے واقعہ میں وہ ملوث ہیں جبکہ ان طالبات نے نقاب اُوڑھ رکھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدمے کی تفتیش کے ضمن میں کوئی شواہد موجود بھی تھے تو وہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور سی ڈی اے کے عملے نے جامعہ حفصہ کو گرانے کے بعد ختم کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس ان کی مؤکلوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں لہذا ان کی درخواست کی ضمانت منظور کی جائے۔ وکیل استغاثہ راجہ یاسین نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان افراد کو مظاہرے کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو فلم کے ذریعے شناخت کیا ہے اور وہ ان مقدمات میں ملوث ہیں۔ عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ان افراد کی ضمانتیں منظور کر لیں۔ اُدھر جامعہ حفصہ کی طالبات نے لال مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ان طالبات نے لال مسجد میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی جسے اسلام آباد کی انتطامیہ نے ناکام بنا دیا۔ |
اسی بارے میں عزیز خاندان کی پیرول پر رہائی 20 July, 2007 | پاکستان ’مولانا عزیز کا الزامات سے انکار‘04 August, 2007 | پاکستان مولانا عبدالعزیز، ایک اورضمانت03 August, 2007 | پاکستان مولانا عبدالعزیز کی ضمانت منظور01 August, 2007 | پاکستان ’بیٹے کی تدفین جامعہ میں نہ ہوئی‘ 20 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||