BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 August, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولاناعزیز کی اہلیہ، بیٹی کی ضمانت

عبدالعزیز کی اہلیہ اور بیٹی
ام حسان کے اور ان کی بیٹی کی تمام مقدمات میں ضمانت ہو گئی ہے (فائل فوٹو)
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور بیٹی کی قتل اور اغوا کے ایک مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے جس کے بعد ان دونوں کی تمام مقدمات میں ضمانت ہوگئی ہے۔

راولپنڈی میں خصوصی عدالت کے جج چوہدری حبیب الرحمٰن نے پیر کو مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان اور ان کی بیٹی طیبہ دعا کے درخواست ضمانت آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد خواجہ اور لال مسجد کے پندرہ طلباء کی رینجر کے ایک اہلکار کے قتل اور ایف ایٹ سے چینی باشندوں کے اغوا کے مقدمات میں منظور کی ہے۔

عدالت نے وکیل صفائی کو حکم دیا کہ وہ ایک ایک لاکھ روپے مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔ واضح رہے کہ ام حسان کے خلاف سات مقدمات جبکہ ان کی بیٹی طیبہ دعا کے خلاف تین مقدمات درج ہیں اور ان تمام مقدمات میں دونوں کی ضمانت ہوچکی ہے جبکہ ان کی چھوٹی بیٹی عصمہ عزیز کو پہلے ہی رہا کیا جاچکا ہے۔

ضمانت کی اس درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے درخواست گزاروں کے وکیل شوکت صدیقی نے کہا کہ پولیس نے ان کی مؤکلوں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا اور پولیس اس ضمن میں ابھی تک عدالت میں کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکی۔

 جامعہ حفصہ کی طالبات نے لال مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ان طالبات نے لال مسجد میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی جسے اسلام آباد کی انتطامیہ نے ناکام بنا دیا

وکیل صفائی نے کہا کہ پولیس نے تین جولائی کو جامعہ حفصہ کے باہر سات سو سے زائد طالبات کے مظاہرے میں ان خواتین کو کیسے پہچان لیا کہ رینجرز کے اہلکار کے قتل کے واقعہ میں وہ ملوث ہیں جبکہ ان طالبات نے نقاب اُوڑھ رکھے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدمے کی تفتیش کے ضمن میں کوئی شواہد موجود بھی تھے تو وہ اسلام آباد کی انتظامیہ اور سی ڈی اے کے عملے نے جامعہ حفصہ کو گرانے کے بعد ختم کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس ان کی مؤکلوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں لہذا ان کی درخواست کی ضمانت منظور کی جائے۔

وکیل استغاثہ راجہ یاسین نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان افراد کو مظاہرے کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو فلم کے ذریعے شناخت کیا ہے اور وہ ان مقدمات میں ملوث ہیں۔ عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ان افراد کی ضمانتیں منظور کر لیں۔

اُدھر جامعہ حفصہ کی طالبات نے لال مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی رہائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ان طالبات نے لال مسجد میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی جسے اسلام آباد کی انتطامیہ نے ناکام بنا دیا۔

فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
حشمت حبیب ایڈوکیٹمعاملہ دب سکتا ہے
لال مسجد معاملے کے از خود نوٹس پر خدشات
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
مولانا عبدالرشید غازی’30 طالبات دفنا دیں‘
’مجھے مارا گیا تو اسلام آباد بغداد بن جائے گا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد