مولانا عزیز کے ریمانڈ میں توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی ہے اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزم کو اکیس جولائی کو عدالت میں دوبارہ پیش کریں۔ مولانا عبدالعزیز کا جسمانی ریمانڈ تھانہ آبپارہ کے اس مقدمے میں دیا گیا ہے جو رینجرز کے ایک اہلکار کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے پر بنایا گیا تھا۔ عدالت کے جج سخی محمد کہوٹ نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ امِ حسان کی ضمانت کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سرکار کو جاری کیے گئے نوٹس میں کہا کہ اس مقدمے کا ریکارڈ اکیس جولائی کو پیش کیا جائے۔ واضح رہے کہ امِ حسان اور ان کی دو بیٹیاں طیبہ دعا اور عصمہ عزیز بھی اسی مقدمے میں پولیس کی تحویل میں ہیں۔ چینی باشندوں کے اغواء کے مقدمے میں ضمانت کے لیے ان کی درخواست کی سماعت بھی اکیس جولائی کو ہوگی۔
ادھر اسی عدالت نے تھانہ کوہسار میں درج پولیس اہلکاروں کے اغواء کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے چالیس افراد کو چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا ہے۔ عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے انتطامِیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے لیکن انتظامِیہ نے ان کے خلاف غلط مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بجھوا دیا۔ | اسی بارے میں اُم حسان اور بیٹیوں کا ریمانڈ18 July, 2007 | پاکستان مولانا عزیز کا 7 روزہ پولیس ریمانڈ05 July, 2007 | پاکستان مولانا عبدالعزیز برقعے میں فرار ہوتے ہوئے گرفتار04 July, 2007 | پاکستان ’زیادہ مزاحمت نہیں کر سکیں گے‘05 July, 2007 | پاکستان ’برقعےمیں گرفتاری باعثِ شرم ہے‘05 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||