BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 July, 2008, 23:49 GMT 04:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھے کارروائی کا مکمل اختیار ہے‘

صدر بش اور صدر مشرف کے درمیان سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ امریکہ پاکستانی سرزمین پر القاعدہ اور طالبان کے خلاف میزائل حملے کرسکتا ہے: امریکی میڈیا
امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بطور ایک فوجی انہیں مکمل اختیار حاصل ہے۔

بدھ کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں محکمۂ دفاع کی پریس بریفنگ میں ان سے جب دریافت کیا گیا کہ کیا انہیں پاکستانی سرزمین پر بھی کارروائی کا اختیار حاصل ہے تو انہوں نے تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہوئے اتنا کہا کہ انہیں کارروائی کے لیے پورا اختیار حاصل ہے۔

ان کا یہ بیان امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان متواتر رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے کہ صدر بش اور پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ امریکہ پاکستانی سرزمین پر القاعدہ اور طالبان کے خلاف میزائل حملے کرسکتا ہے۔

ماضی میں امریکی صدر اور آئندہ صدراتی امیدوار سب یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر امریکہ کو (پاکستان میں) القاعدہ یا طالبان کے کسی بڑے لیڈر کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل ہوتی ہیں جن پر اگر پاکستان کارروائی نہیں کرتا تو امریکہ اپنے طور پر کارروائی کرے گا۔

تاہم بدھ کو ہونے والی بریفنگ کے دوران ایڈمرل مولن کا کہنا تھا: ’القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک فوجی کی حیثیت میں میرے پاس سارے اختیار ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ کہ اگر امریکہ چاہے تووہ پاکستان کی سرحد کے اندر آ کر بھی کارروائی کر سکتا ہے تو اعلٰی امریکی فوجی افسر نے کہا ’میں ان باریکیوں میں نہیں جانا چاہوں گا۔‘

بدھ کو امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے خبر دی تھی کہ امریکہ اور صدر پرویز مشرف کے درمیان یہ سمجھوتہ ہو چکا ہے کہ امریکہ جب چاہے پاکستانی سر زمین پر القاعدہ کے ٹھکانوں پر میزائل داغ سکتا ہے۔

ماضی میں قبائلی علاقوں میں اکثر اس طرح میزائل داغے گئے ہیں مگر بش انتظامیہ کے اہلکاروں نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ اس میں امریکہ کا ہاتھ ہے۔ البتہ کانگریس کی کارروائی میں سوال و جواب کے دوران کئی سینیٹرز اس کا ذکر کر چکے ہیں۔

ایڈمرل مائیک مولن نے بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ اس ہفتے پاکستان کی فوج نے جس تیزی سے اپنے مشن کو سر انجام دیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور ’ہم کسی خود مختار ملک میں اپنی فوج یونہی نہیں بھیج دیتے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون پر انہیں پورا اعتبار ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد