BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 June, 2008, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خیبر ایجنسی: چھ روز میں 25 ہلاک

خیبر ایجنسی
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ دنوں کی لڑائی میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں
قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں مقامی شدت پسند تنظیموں کے درمیان آج چھٹے روز بھی جھڑپیں جاری رہیں اور مزید تین افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت کے مطابق مرنے والوں کی مجموعی تعداد اب تک پچیس تک پہنچ چکی ہے۔

تاہم مقام لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ دنوں کی لڑائی میں پچاس کے قریب افراد ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوگئے ہیں۔

خیبر ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لشکر اسلام اور انصارالاسلام کے مسلح حامی تحصیل باڑہ کے دوردراز علاقے تیراہ کے زخہ خیل، میدان، ملک دین خیل اور شلوبر میں چھٹے روز بھی بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

لشکر اسلام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے انصارالاسلام کے زیر کنٹرول شلوبر کے علاقے کو قبضہ کرلیا ہے تاہم انصارالاسلام نے اس دعویٰ کی تردید کی ہے۔

اس سلسلے میں پولٹیکل انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں بھی شلوبر پر لشکر اسلام کے قبضے کی غیر مصدقہ اطلاعات ملی ہیں تاہم اس کی سرِدست تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چھ روز سے جاری رہنے والی اس لڑائی میں اب تک پچیس افراد ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

نقل مکانی
 اطلاعات کے مطابق لڑائی کی زد میں آنے والے علاقے سے مقامی لوگوں نے محدود پیمانے پر نقل مکانی کی ہے کیونکہ جس علاقے میں جھڑپیں ہورہی ہیں وہ پہاڑوں کے درمیان واقع ہے جبکہ مسلح افراد کے مورچے پہاڑوں کے اوپر واقع ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے اب تک پچاس کے قریب لوگ ہلاک اور اتنے ہی زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لڑائی کی زد میں آنے والے علاقے سے مقامی لوگوں نے محدود پیمانے پر نقل مکانی کی ہے کیونکہ جس علاقے میں جھڑپیں ہورہی ہیں وہ پہاڑوں کے درمیان واقع ہے جبکہ مسلح افراد کے مورچے پہاڑوں کے اوپر واقع ہیں۔

پولیٹیکل حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک لڑائی رکوانے میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی مشران کی جانب سے کسی قسم کی کوئی امن کوششیں شروع ہوسکی ہیں۔

خیبر ایجنسی میں منگل باغ کی سربراہی میں سرگرم لشکر الاسلام کا تعلق پنج پیری مکتبہ فکر سے ہے جبکہ انصارالاسلام کے حامی مولانا محبوب الحق کی قیادت میں طریقت کے پیروکار ہیں۔

ان دونوں تنظیموں کے درمیان گزشتہ تین سال سے مسلح جھڑپیں جاری ہیں اور اس دوران خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کی عملداری تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں
خیبر ایجنسی میں فائر بندی
17 April, 2008 | پاکستان
دو دھماکوں میں دو ہلاک
23 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد