زرداری اور نواز، دبئی کے بعد لندن میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ججوں کی بحالی کا معاملہ اسلام آباد اور دبئی کے بعد اب لندن میں زیر بحث آئے گا جہاں ملک کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف پہلے ہی لندن میں موجود ہیں جبکہ انہوں نے شہباز شریف اور خواجہ آصف کو بھی لندن طلب کرلیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان صدیق الفاروق کے مطابق ان کی جماعت کے صدر شہباز شریف اور وزیر پیٹرولیم خواجہ محمد آصف جمعرات کو لندن پہنچ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق ان کی جماعت کے شریک سربراہ آصف علی زرداری اور وزیراعظم کے مشیرِ داخلہ رحٰمن ملک بھی جمعرات کو لندن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
لندن میں قیام کے دوران آصف علی زرداری جہاں اپنی جماعت کے سربراہ اور زیرِ تعلیم اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری سے ملیں گے وہاں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے بھی ملاقات کریں گے۔ گزشتہ ہفتے دبئی میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان ججوں کو بارہ مئی تک بحال کرنے پر اتفاق رائے کے بعد آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ رات گئے تک طویل اجلاس کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دے کر معاملہ اپنے سربراہان کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ججوں کی بحالی کے بارے میں چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کو بحال کرنے کے طریقۂ کار پر اختلاف ہے جسے ختم کرنے کے لیے کئی روز سے بات چیت جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ برطرف ججوں کو پارلیمان سے سادہ اکثریت سے منظور کردہ قرار داد کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون میں ترمیم کر کے جب تک وزیراعظم کو اس بارے میں اختیار نہیں دیا جاسکتا اس وقت تک بحالی کا حکم غیر قانونی ہوگا۔
ججوں کی بحالی کے بارے میں پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی قرار داد کی حیثیت آئین یا قانون کے برابر نہیں ہے اور اگر قرار داد کی بناء پر وزیراعظم نے کوئی حکم جاری کیا تو وہ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے اور ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے ججوں کو برطرف کرنے کا حکم غیر آئینی ہے اور اگر اُسے ختم کرنے کے لیے آئین یا قانون میں ترمیم ہوئی تو وہ ان کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ان کے بقول پارلیمان اگر قرار داد کے ذریعے صدر کے تین نومبر سن دو ہزار سات کے حکم کو غیر قانونی قرار دے تو معزول جج خود بخود بحال ہوجائیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے اس مؤقف پر حکومتی اتحاد کی ایک جماعت جمیعت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن نے انہیں تقنید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ میاں نواز شریف کئی سیاسی قلابازیاں کھا چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں مسودہ تیار، مگر اختلافات موجود07 May, 2008 | پاکستان ’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘30 April, 2008 | پاکستان دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے01 May, 2008 | پاکستان چہرے پر مایوسی مگر پیشرفت’مثبت‘01 May, 2008 | پاکستان اتفاق ہو گیا، اعلان کل ہوگا: نواز شریف01 May, 2008 | پاکستان ’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘30 April, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||