BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری اور نواز، دبئی کے بعد لندن میں

نواز شریف اور آصف زرداری(فائل فوٹو)
دبئی میں آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان ججوں کو بارہ مئی تک بحال کرنے پر اتفاق رائے کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی
پاکستان میں ججوں کی بحالی کا معاملہ اسلام آباد اور دبئی کے بعد اب لندن میں زیر بحث آئے گا جہاں ملک کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف پہلے ہی لندن میں موجود ہیں جبکہ انہوں نے شہباز شریف اور خواجہ آصف کو بھی لندن طلب کرلیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک ترجمان صدیق الفاروق کے مطابق ان کی جماعت کے صدر شہباز شریف اور وزیر پیٹرولیم خواجہ محمد آصف جمعرات کو لندن پہنچ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق ان کی جماعت کے شریک سربراہ آصف علی زرداری اور وزیراعظم کے مشیرِ داخلہ رحٰمن ملک بھی جمعرات کو لندن کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

پیپلزپارٹی کا مؤقف
 پارلیمانی قرار داد کی حیثیت آئین یا قانون کے برابر نہیں ہے اور اگر قرار داد کی بناء پر وزیراعظم نے کوئی حکم جاری کیا تو وہ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے اور ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے
پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری لندن میں قیام کے دوران میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کریں گے اور ججوں کی بحالی کے بارے میں آئینی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ان سے بات چیت کریں گے۔ کلثوم نواز کا حال ہی میں گھٹنے کا آپریشن ہوا ہے۔

لندن میں قیام کے دوران آصف علی زرداری جہاں اپنی جماعت کے سربراہ اور زیرِ تعلیم اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری سے ملیں گے وہاں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین سے بھی ملاقات کریں گے۔

گزشتہ ہفتے دبئی میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان ججوں کو بارہ مئی تک بحال کرنے پر اتفاق رائے کے بعد آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے گزشتہ رات گئے تک طویل اجلاس کے بعد سفارشات کو حتمی شکل دے کر معاملہ اپنے سربراہان کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ججوں کی بحالی کے بارے میں چار جماعتی حکومتی اتحاد کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ججوں کو بحال کرنے کے طریقۂ کار پر اختلاف ہے جسے ختم کرنے کے لیے کئی روز سے بات چیت جاری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ برطرف ججوں کو پارلیمان سے سادہ اکثریت سے منظور کردہ قرار داد کے ذریعے بحال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ آئین اور قانون میں ترمیم کر کے جب تک وزیراعظم کو اس بارے میں اختیار نہیں دیا جاسکتا اس وقت تک بحالی کا حکم غیر قانونی ہوگا۔

مسلم لیگ کا مؤقف
 مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے ججوں کو برطرف کرنے کا حکم غیر آئینی ہے اور اگر اُسے ختم کرنے کے لیے آئین یا قانون میں ترمیم ہوئی تو وہ ان کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ان کے بقول پارلیمان اگر قرار داد کے ذریعے صدر کے تین نومبر سن دو ہزار سات کے حکم کو غیر قانونی قرار دے تو معزول جج خود بخود بحال ہوجائیں گے
مذکورہ کمیٹی میں وکلاء عبدالحفیط پیرزادہ اور اعتزاز احسن کو بھی شامل کیا گیا۔ جناب پیرزادہ کا موقف پیپلز پارٹی اور اعتزاز احسن کی رائے مسلم لیگ (ن) کے مؤقف سے قریب ہے۔

ججوں کی بحالی کے بارے میں پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی قرار داد کی حیثیت آئین یا قانون کے برابر نہیں ہے اور اگر قرار داد کی بناء پر وزیراعظم نے کوئی حکم جاری کیا تو وہ عدالتوں میں چیلنج ہوسکتا ہے اور ایک نیا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

مسلم لیگ کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے ججوں کو برطرف کرنے کا حکم غیر آئینی ہے اور اگر اُسے ختم کرنے کے لیے آئین یا قانون میں ترمیم ہوئی تو وہ ان کے غیر آئینی اقدام کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ان کے بقول پارلیمان اگر قرار داد کے ذریعے صدر کے تین نومبر سن دو ہزار سات کے حکم کو غیر قانونی قرار دے تو معزول جج خود بخود بحال ہوجائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے اس مؤقف پر حکومتی اتحاد کی ایک جماعت جمیعت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن نے انہیں تقنید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ میاں نواز شریف کئی سیاسی قلابازیاں کھا چکے ہیں۔

نواز شریفدبئی میں مذاکرات
چہرے پر مایوسی مگر پیش رفت’مثبت‘
وکلاء تحریکچاند دیکھو چاند
کیا کوئی عوامی مسائل کے بارے میں سوچ رہا ہے؟
بحالی پیکج کے تحت
موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے: زرداری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد