ججوں کی بحالی: نواز شریف دبئی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’اگرجج بحال نہ ہوئے تو پاکستان اور جمہوریت یہ سب، اللہ نہ کرے خواب بن کر رہ جائیں گے۔‘ انہوں نے یہ بات پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری سے مذاکرات کے لیے دبئی روانہ ہونے سے قبل کہی۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے اتحاد کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ اتحاد میں دراڑ نہ آئےلیکن کچھ طاقتیں اس کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو اس اتحاد کو ختم کرنا چاہتے ہیں وہ وہی ہیں جوپاکستان کے دشمن ہیں، عدلیہ کو توڑنے والے ہیں۔انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان کے عوام نے ووٹ دیا ہے تبدیلی کے لیے اور اس شخص کو نکالنے کے لیے جس نے اس ملک سے آٹا ختم کر دیا اور لوگوں کو بے روزگار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایک شخص نے محض اپنے اقتدار کی خاطر آئین توڑا پارلیمنٹ توڑ دی ،عدلیہ ختم کی، ججوں کو گرفتار کیا اس شخص کو قوم کیسے معاف کرسکتی ہے؟ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان کے معاملات ملک کےاندر کی ہی حل کرنا چاہتے تھے لیکن یہ اتنا اہم معاملہ ہے کہ وہ اپنی اس خواہش کو نظر انداز کر کے بیرون ملک جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اعلان مری کی صورت میں قوم کے سامنے اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جس کے تحت عدلیہ کوایک سادہ قرارداد کے ذریعے دو نومبر والی پوزیشن پر بحال کیا جانا ہے اور اس کے لیے آخری تاریخ تیس اپریل ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ مری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے ورنہ عوام غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے۔ جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں اتحاد اور ججوں کی بحالی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو ان کا فیصلہ کیا ہوگا، تو ان کا کہنا تھا کہ اگر جج بحال ہونگے تو پاکستان قائم و دائم رہے گا اور اگر انہیں بحال نہ کیا گیا تو ’پاکستان اور جمہوریت یہ سب اللہ نہ کرے خواب و خیال بن کر رہے جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا ’ہم نے آصف زرداری اور پیپلز پارٹی سے جو اتحاد کیا تھا اس کا ایک ہی نکتہ تھا کہ ججوں کو بحال کیا جائے، میں نے اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں مانگا، مسلم لیگ نے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا تھا بلکہ یہ قوم کا معاملہ ہے اور اسے قوم کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔‘ مسلم لیگ نون کے ترجمان پرویز رشید نے بتایا کہ مسلم لیگ نون نے یکم مئی کو لاہور میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کا مشترکہ اجلاس بلا لیا ہے اور اگر کل ججوں کو بحال نہ کیا گیا تو پرسوں مسلم لیگ اپنے جوابی اقدام کا اعلان کر دے گی۔ اسلام آباد سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے اعجاز مہر لکھتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی مسلم لیگ (ن) کا ایک وفد ججوں کی بحالی کا طریقۂ کار طے کرنے کے لیے آصف علی زرداری سے مذاکرات کرنے دبئی گیا تھا اور ان کی بات چیت کی بظاہر ناکامی کے بعد اچانک میاں نواز شریف نے دبئی جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا موقف ہے کہ تیس اپریل ججوں کی بحالی کی قرار داد پارلیمان میں پیش کی جائے۔ بصورت دیگر انہوں نے وفاقی حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے میاں نواز شریف اب خود آصف علی زرداری بات کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد مستقبل کا لائحۂ عمل طے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) چار جماعتی حکومت اتحاد کی پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی جماعت ہے اور چوبیس رکنی وفاقی کابینہ میں نو اہم وزارتیں مسلم لیگ (ن) کے پاس ہیں۔ وکلاء کے ایک سرکردہ نمائندے جسٹس (ر) طارق محمود کا کہنا ہے کہ تیس اپریل تک ججوں کی عدم بحالی کی صورت میں وکلاء برادری مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کرے گی۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دبئی میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ معطل شدہ ججوں کی بحالی عدلیہ میں اصلاحات کے ایک پیکج کی تحت عمل میں لائی جائے گی۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ معطل شدہ ججوں کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ کے موجودہ جج بھی کام کرتے رہیں گے۔ آئینی پیکج کی تیاری اور اس کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بارے میں آصف علی زرداری نے وقت کا تعین کرنے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اس سارے عمل میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان زرداری اور شہباز، دبئی میں ملاقات28 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں27 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحران کے حل کیلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان ’ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں‘26 April, 2008 | پاکستان مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی25 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||