سربجیت کے اہل خانہ کی زباں بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہورکے گوردوارہ ڈیرہ صاحب سے متصل رنجیت سنگھ کی مڑھی یعنی رنجیت سنگھ کے صحن میں داخل ہوا ہی تھا کہ ایک صحافی دوست نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ سربجیت کو پھانسی ہی ہوگی، انشاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا تو)۔اس قسم کے تبصرے کی اس سے کوئی توقع نہیں تھی، میں نے حیرانی سے اس کے چہرے کو دیکھا توجواباً اس نے مجھے آنکھ ٹکا دی۔ پاکستان میں سزائے موت کے قیدی سربجیت سنگھ کے اہل ِ خانہ نے، جوگوردوارہ ڈیرہ صاحب میں قیام پذیر ہیں، پیر کو پریس کانفرنس کے لیے میڈیا کو بلایا تھا۔ سربجیت سنگھ کے اہلخانہ کاپاکستان میں سات روزہ قیام کل پورا ہورہا ہے اور اس لحاظ سے یہ پاکستان میں ان کی آخری پریس کانفرنس ہوسکتی تھی لیکن ماحول کچھ بدلا بدلا اور تناؤ کا شکار دے رہا تھا۔ کیمرہ مین اور فوٹوگرافر اور صحافی دھکم پیل کی بجائے ٹولیوں میں بیٹھے نیچی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ سربجیت سنگھ کی بہن دلبیر کور ان کی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آئیں تو میڈیا خاموشی سے کھڑا ہوگیا۔ دلبیر کور نے کہا کہ یہ کچھ اپیلیں ہیں آپ یہ لے جائیں میں بات نہیں کروں گی۔ انہوں نے کہا کہ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے انہیں یہ کہہ کر منع کردیا ہے کہ سیاسی بات کرنے سے گوردوارے کا تقدس مجروح ہوگا۔ یہ بات میرے لیے حیرت کا سبب تھی کیونکہ اسی گوردوراے میں پاکستانی حکام نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاسی معاملات پر بھی اکثر میڈیا سے گفتگو فرماتے رہتے ہیں۔
جب انہیں کہا گیا کہ وہ گوردوارہ ڈیرہ صاحب سے باہر آکر گفتگو کرلیں تو ایک سفید پوش اہلکار نے کہا کہ باہر سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اس لیے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس اہلکار نے ایک ہندوستانی ٹی وی چینل کے پاکستانی رپورٹر کو طنزاً کہا کہ آپ ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لے لیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اب غور کیا تو کچھ پراسرار قسم کے لوگ دکھائی دیے، ایک نیلی شرٹ والا، دوسرا باریک داڑھی والا اور تیسرا سفید شلوار قمیض میں جس کے ماتھے کی تیوریاں مسلسل چڑھی ہوئی تھیں۔ ایک فوٹوگرافر نے میرے کان میں کہا کہ ’یہ سب خفیہ کے لوگ ہیں اور بہانے بہانے سے صحافیوں کے پاس کھڑے ہوکر ان کی باتیں سنتے ہیں‘۔ انہوں نے مجھےگفتگو میں احتیاط کا مشورہ دیا۔ میں سمجھ گیا کہ میرے صحافی دوست کی سربجیت سنگھ کو پھانسی کی عجیب سی خواہش بھی اسی نام نہاد حفاظتی احتیاط کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں صحافیوں کو خفیہ کے اہلکاروں کی جانب سے دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا رہتا ہے اور متعدد بار انہیں پوچھ گچھ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ گوردوارے میں بھی یہ اہلکار صحافیوں سے ان کے ٹیلی فون نمبر پوچھتے دکھائی دیے۔ بہرحال دلبیر کور سے کہا گیا کہ چلیے ریکارڈنگ نہیں کرتے آپ کچھ تو کہیں۔ اس پر انہوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ ’میں نوازشریف صاحب سے اپیل کرونگی
سربجیت سنگھ کے اہلخانہ کو صرف لاہور اورننکانہ صاحب کا ویزہ ملاتھا لیکن گزشتہ ہفتے واہگہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہی انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ صدر پرویز مشرف، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، نوازشریف اور آصف زرداری سے ملاقات کرنا چاہیں گی لیکن ان کی کسی بھی لیڈر سے ملاقات نہیں ہوپائی۔ دلبیر کور نے کہاکہ وہ پنجاب کے سیکرٹری داخلہ کے پاس جارہی ہیں تاکہ سربجیت سنگھ سے دوسری ملاقات اور اپنے قیام میں سات روز کے اضافے کی درخواست دے سکیں۔ صحافیوں کی ٹیم ان کے ساتھ روانہ ہوئی کہ شاید گوردوارے سے باہر بات ہوسکے لیکن یہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔ پولیس اور سادہ پوش اہلکاروں نے صحافیوں کو ان کے نزدیک بھی نہیں پھٹکنے دیا اور سیکرٹری داخلہ نے ان کی درخواست وصول نہیں کی۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی سربجیت کو معاف کر دیں‘23 April, 2008 | پاکستان ’سربجیت کو معاف کردیں‘20 March, 2008 | پاکستان جیل میں بھارتی ماہی گیر ہلاک20 March, 2008 | پاکستان سربجیت: سزا ایک ماہ کے لیےملتوی19 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ: پھانسی کا فیصلہ ہوگیا18 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان ’سربجیت سنگھ سے ملنے دیا جائے‘11 May, 2006 | پاکستان سربجیت کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||