’پاکستانی سربجیت کو معاف کر دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دہشت گردی کے الزام پر سزائے موت پانے والے بھارتی قیدی منجیت سنگھ یا سربجیت سنگھ کے اہلخانہ نے لاہور پہنچنے کے بعد کہا ہے وہ پاکستانی قوم کے قدموں میں معافی کی درخواست رکھنے آئے ہیں۔ سربجیت سنگھ کی بیوی، دو بیٹیوں، بہن اور بہنوئی کو پاکستان کا سات روزہ قیام کی اجازت ملی ہے اور اس دوران وہ ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک کے جنم استھان پر ماتھا ٹیکنے کے لیے بھی جاسکیں گے۔ وہ لوگ لاہور کے ڈیرہ گردوارہ صاحب میں قیام پذیر ہیں اور منتظر ہیں کہ کب انہیں ملاقات کے لیے جیل جانے کی اجازت ملتی ہے۔ سربجیت سنگھ کی ایک بیٹی پونم کریلے پکا کر لائی ہے اور دوسری سواپن دیپ اپنے والد کا تصویری خاکہ بنا کر لائی ہے۔ سواپن دیپ نے کہا کہ وہ ڈھائی برس کی تھی جب اس کے والد بچھڑ گئے اور انہیں اپنے والد کی شکل یاد نہیں ہے اگرچہ یہ خاکہ سربجیت سنگھ کی پرانی تصویروں اور سواپن دیپ کے خیالوں کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔
پاکستان پہنچنے کے بعد اب سواپن دیپ کو امید ہو چلی ہے کہ وہ اپنے ہوش ہو حواس میں پہلی بار اپنے والد کو دیکھ پائیں گی۔ انہوں نے کہا ’میں ایک بار اپنے پتا (والد) کے گلے لگنا چاہتی ہوں۔‘ سواپن دیپ نے کہا کہ ان کےوالد نے عمر قید سے بھی زیادہ سزا کاٹ لی ہے اور وہ پاکستانی قوم سے بنتی (درخواست) کرتی ہیں کہ اب انہیں رہا کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ پاکستانی عوام انہیں اپنی بچیاں سمجھتے ہوئے ان کی درخواست پر غور کریں گے۔ ان کے اہلخانہ بدھ کو واہگہ کے راستے باڈر کراس کرنے کے بعد پاکستان پہنچے تو خاندان کے ایک ایک فرد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اس وقت تک گفتگو کی جب تک ان کے سوال ختم نہیں ہوگئے۔ پاکستانی حکام سربجیت سنگھ کو منجیت سنگھ قراردیتے ہیں اور انہیں پاکستان کی عدالتوں سے سزائے موت دی جا چکی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ برس قبل لاہور، فیصل آباد اور ملتان سمیت چار شہروں میں بم دھماکے کئے تھے جن میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے۔
استغاثہ کے مطابق وہ ایک بار اعتراف جرم بھی کرچکے ہیں اوران کے اعترافی بیان کی ویڈیو پاکستان کے ٹیلی ویژن چینلز پر چلائی جا چکی ہے۔ سربجیت سنگھ کی بیوی سکھ پریت کور کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر بے گناہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں منجیت سنگھ کو سزا دی گئی ہے جبکہ ان کے شوہر کا نام سربجیت سنگھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہ برس پہلے جب ان کی چھوٹی بیٹی صرف تئیس دن کی تھی تو سربجیت سنگھ شراب کے نشے میں کھیت میں ہل چلانے گئے تھے اور غلطی سے سرحد پار کرگئے۔ اٹھارہ برس کے بعد اپنے شوہر سے پہلی ملاقات کے تصور نے سکھ پریت کور کو جذباتی کردیا تھا۔ انہوں نے کہا ’مجھے نہیں پتہ کہ جیل میں انہیں ملوں گی تو میری کیفیت کیا ہوگی شاید کچھ بول سن بھی نہ سکوں۔‘ سربجیت سنگھ یا منجیت سنگھ کی پھانسی کے لیے یکم مئی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور اگر ان کی سزا معاف یا مؤخر نہ ہوسکی تو یہ ان کے اہلخانہ کی ان سے آخری ملاقات بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارتی حکومت پہلے ہی صدر پاکستان پرویز مشرف سے سربجیت سنگھ کی رہائی کی اپیل کرچکی ہے۔ان کی بہن دلبیر کور نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی صدر پرویز مشرف اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ آصف زرداری اور نواز شریف سے ملاقات کے لیے ہائی کمیشن کے ذریعے درخواستیں بھجوائی ہیں اور ان سے مل کر بس وہ اپنے بھائی کی رہائی کی اپیل ان کے قدموں میں رکھ دیں گی۔ پاکستان میں ان دنوں سزائے موت کے تمام قیدیوں کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ زیر غور ہے اور نئی حکومت نے اس سلسلے میں ایک سمری بھی صدر مملکت کو بھجوا رکھی ہے۔ اس نئے فیصلے کی صورت میں دیگر قیدیوں کےساتھ ساتھ سربجیت سنگھ کی موت کی سزا ٹل سکتی ہے۔ | اسی بارے میں سربجیت: بھارتی حکام کی ملاقات 29 August, 2005 | پاکستان بھارتی اہلکاروں کی منجیت سےملاقات30 August, 2005 | پاکستان ’پھانسی نہ دینے کا وعدہ نہیں کیا‘07 September, 2005 | پاکستان سربجیت کی درخواست واپس29 September, 2005 | پاکستان سربجیت کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان ’سربجیت سنگھ سے ملنے دیا جائے‘11 May, 2006 | پاکستان سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ: پھانسی کا فیصلہ ہوگیا18 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||