سربجیت: سزا ایک ماہ کے لیےملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی سزائے موت پر عمل درآمد ایک ماہ کے لیےملتوی کر دی ہے۔ اس بات کی تصدیق بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار سنجے ماتھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غیر رسمی طور پر انہیں یہ اطلاع دے دی ہے تاہم سرکاری طور پر ابھی پیغام آنا باقی ہے۔ ’یہ سزا تیس اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔‘ سربجیت سنگھ کو انیس سو اکانوے میں پاکستان میں جاسوسی اور مختلف بم دھماکوں کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان بم دھماکوں میں تقریباً چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ سربجیت کا کہنا ہے کہ وہ غلط شناخت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اس فیصلے سے سربجیت سنگھ کے خاندان اور بھارتی حکومت کو مزید وقت مل سکے گا تاکہ وہ اس کی معافی کے لیے کوشیں تیز کر سکیں۔ ادھر صدر پرویز مشرف نے عید میلادالنبی (بارہ ربیع الاول) کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی معافی کا اعلان کیا ہے تاہم اس کا اطلاق جاسوسی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد پر نہیں ہوگا۔ صدر نے وزیراعظم کی سفارش پر انیس سو تہتر کے آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت اپنے استحقاق کو بروئے کار لاتے ہوئے سزاؤں میں یہ تخفیف کی ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق چاروں صوبوں کے سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری شمالی علاقہ جات کو اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ صدر نے قتل، جاسوسی، ملک دشمن سرگرمیوں، فرقہ واریت، زنا، راہزنی، ڈکیتی، اغوا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں سزا یافتہ مجرموں کے علاوہ عمر قید کے قیدیوں کو نوے دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ قتل، جاسوسی، تخریب کاری، ملک دشمن سرگرمیوں، دہشتگردی کی کارروائیوں، زنا، اغوا، ڈکیتی اور فارنرز ایکٹ 1946ء کے تحت سزا بھگتنے والوں اور سزائے موت کے قیدیوں کے سوا دیگر سزا یافتگان کو پینتالیس روز کی رعایت دی گئی ہے۔ اس رعایت کا اطلاق ان قیدیوں پر ہوگا جو اپنی سزا کا دو تہائی حصہ کاٹ چکے ہوں۔ صدر نے عید میلادالنبی کے موقع پر ان مرد قیدیوں کی تمام سزا معاف کر دی جن کی عمر 65 سال یا اس سے اوپر ہو اور وہ کم از کم ایک تہائی سزا بھگت چکے ہوں۔ تاہم قتل اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہ ہوں۔ ان خواتین قیدیوں کی بھی تمام سزا معاف کر دی گئی ہیں جن کی عمر ساٹھ سال یا اس سے زائد ہے اور وہ ایک تہائی سزا بھگت چکی ہیں۔ لیکن اس کا اطلاق قتل یا دہشت گردی میں ملوث قیدیوں پر نہیں ہوگا۔ ان قیدیوں کیلئے ایک سال کی خصوصی چھوٹ ہوگی جن کے ہمراہ بچے ہیں اور وہ قتل اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے علاوہ دیگر جرائم میں سزا بھگت رہی ہیں۔ صدر نے اُن کمسن قیدیوں (اٹھارہ سال سے کم) کی سزا میں پوری چھوٹ کا اعلان کیا جو ایک تہائی سزا بھگت چکے ہوں تاہم قتل، دہشت گردی، زنا، راہزنی، ڈکیتی، اغوا اور ملک دشمن سرگرمیوں میں سزا یافتہ نہ ہوں۔ اعلامیے کے مطابق بیس مارچ دو ہزار آٹھ یا اس سے قبل سزا یافتہ قیدیوں پر اس رعایت کا اطلاق ہوگا۔ | اسی بارے میں سربجیت سنگھ: پھانسی کا فیصلہ ہوگیا18 March, 2008 | پاکستان سربجیت سنگھ کا بلیک وارنٹ17 March, 2008 | پاکستان سربجیت کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان پندرہ سال سے قید ماہی گیر14 March, 2008 | پاکستان پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان بھارتی قیدی: پینتیس برس بعد رہائی29 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||