’فوج نظریاتی سرحدوں کا بھی دفاع کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوام نے فوج کے سربراہ کے اس بیان کو سراہا ہے جس میں انہوں نے حلف کی پاسداری اور پروفیشنلزم پر زور دیا ہے اور وہ ان کے اس حکم کو بھی سراہتے ہیں جس میں تمام فوجی افسران کو سویلین محکموں سے واپس بلایا گیا ہے۔ ’موجودہ دور میں فوج اور سول میں نئے اور متوازن تعلق کی ضرورت ہے جس میں ایک دوسرے کے لیے عزت اور وقار ہو۔‘ یہ بات انہوں نے فارمیشن کمانڈروں کو دیے گئے عشایے میں کہی۔ مسٹر گیلانی نے کہا کہ موجودہ حکومت میں زیادہ تر افراد کے لیے اور خصوصاً خود ذاتی طور پر ان کے لیے جمہوریت کا یہ سفر نہایت مشکل تھا جس کو خون، پسینے اور محنت سے طے کیا ہے۔ انہوں نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جمہوریت کی طرف اس سفر میں مدد کی اور خاص طور پر افواج پاکستان کا جنہوں نے سیاسی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت دانشمندی اور دور اندیشی سے کام لیا۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین کو پارلیمان، عدلیہ ، فوج اور اب میڈیا سب ہی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آئین کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہے اور اس وقت یہ بہت ضروری ہے کہ اس ضمن میں مل کر کوشش کی جائے۔ ’ہمارے پاس وقت نہیں ہے کہ ہم پچھلی بڑی غلطیوں کی وجوہات پر بحث کریں۔ ہمیں مل کر عوام کو مناسب زندگی، پرامن معاشرہ اور عوام دوست نظام حکومت مہیا کرنا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج کو اس کے کمانڈروں کے نظم و ضبط، تجربہ اور یقین محکم نے ایک برتر فوج بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی دوسری فوجوں کی بہ نسبت پاکستان فوج پر مختلف اور اہم ذمہ داری ہے کہ اس کو نہ صرف جغرافیائی بلکہ نظریاتی سرحدوں کا بھی دفاع کرنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خود دار قوم اپنی فوج پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان فوج کو یقین دلایا کہ حکومت فوج کی مالی اور جنگی ہتھیاروں کی ضرورت میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گی۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ جہالت، متعاصبت اور مفلسی سے آزادی کا سفر شروع کرنا چاہیے اور مل کر جمہوری ریاست کے قیام کے لیے کام کریں جہاں قانون اور انصاف کا راج ہو۔ ’یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی ذات اور ادارے سے بالاتر ہو کر ایک محفوظ اور ہم آہنگ ملک اپنی آنے والی نسلوں کو دیں جہاں جمہوری اور شہریوں کے بنیادی حقوق عالمی معیار کے مطابق مہیا ہوں۔‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ایک نیا نظام متعارف کر سکیں گے اور کہا کہ جب سولہ کروڑ عوام کا ساتھ ہو تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ | اسی بارے میں ’صدر کا فیصلہ آئین کے مطابق‘16 April, 2008 | پاکستان وزیراعظم کو چیف کی پہلی بریفنگ02 April, 2008 | پاکستان سٹوڈنٹ، ٹریڈ یونینز پر پابندی کا خاتمہ29 March, 2008 | پاکستان جنرل کیانی کے بیان کا خیر مقدم07 March, 2008 | پاکستان تنازعوں میں نہ گھسیٹا جائے: کیانی06 March, 2008 | پاکستان سول اداروں سے فوجیوں کی واپسی11 February, 2008 | پاکستان فوج کی ساکھ کی بحالی کے لیے نیا حکمنامہ08 February, 2008 | پاکستان ’شفاف انتخابات الیکشن کمشن کی ذمہ داری‘07 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||