بلوچستان مفاہمتی کمیٹی کا اجلاس آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے بلوچستان کیلئے بنائی گئی مفاہمتی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کے روز دوپہر ایک بجے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس کمیٹی کی سربراہی آصف علی زرداری کر رہے ہیں جبکہ اس کے اراکین میں جہانگیر بدر، میر لشکری رئیسانی، رکن قومی اسمبلی اعجاز جھکرانی، سینٹر ڈاکٹر بابر اعوان اور بلوچستان پیپلزپارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سعد اﷲ شاہ شامل ہیں۔ تاہم منگل کو آصف علی زرداری نے اس کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی، وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کو بھی کمیٹی کا رکن مقرر کیا ہے۔ یہ کمیٹی بلوچستان میں امن کے قیام، شکایات دور کرنے اور اسے قومی دھارے میں لانے کے موضوع پر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشش کرے گی۔ مفاہمتی کمیٹی دیگر سیاسی جماعتوں اور فریقین سے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے رابطے کرے گی تاکہ صوبے میں حالات معمول پر لایا جا سکے۔ اعجاز جھکرانی شریک چیئرپرسن کی جانب سے جاری دعوت نامے خود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو پہنچائیں گے۔ اس کانفرنس کے لیے کسی تاریخ کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے تاہم پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے انعقاد کا تعین تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ دس روز میں کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کے قیام کے وقت ایک بیان میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کی محرومیاں اور شکایات دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس بابت پہلا قدم ان سے ماضی میں کی جانے والی زیادتیوں پر معذرت کر کے اٹھایا تھا۔ ’صرف معافی کافی نہیں اور اس جذبے کو ٹھوس اقدامات کی شکل دینا انتہائی ضروری ہے۔‘ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی کا وفاق کو بچانے کی کوشش میں ساتھ دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو صوبائی خودمختاری، سیاسی کارکنوں کی گمشدگیاں، غربت، شدت پسندی میں اضافہ اور بڑے منصوبوں پر مقامی آبادی کے تحفظات دور کیے بغیر عمل درآمد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بلوچستان کے نئے وزیر اعلٰی کی جانب سے بلوچ قوم پرست شدت پسندوں کو مذاکرات کی پیشکش کا ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے۔ کئی کالعدم شدت پسند تنظیمیں اب صرف آزادی کی بات کر رہی ہیں۔ ایسے میں کل جماعتی کانفرنس اس تعطل کو دور کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ: یونیورسٹی پروفیسر ہلاک22 April, 2008 | پاکستان بلوچستان پر اے پی سی بلانے کا فیصلہ20 April, 2008 | پاکستان بلوچستان: نئے وزیراعلیٰ کے مطالبے09 April, 2008 | پاکستان بلوچستان آپریشن بند کیا جائے: گورنر06 April, 2008 | پاکستان بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج27 March, 2008 | پاکستان ’بلوچوں کو مسئلہ معافیوں سے آگے‘05 March, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کی معافی طلبی پر ردِ عمل 24 February, 2008 | پاکستان پی پی پی کی بلوچوں سےمعافی 24 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||