BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 04:57 GMT 09:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان مفاہمتی کمیٹی کا اجلاس آج

بلوچ مہاجرین
کمیٹی بلوچستان پر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشش کرے گی
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے بلوچستان کیلئے بنائی گئی مفاہمتی کمیٹی کا پہلا اجلاس بدھ کے روز دوپہر ایک بجے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

اس کمیٹی کی سربراہی آصف علی زرداری کر رہے ہیں جبکہ اس کے اراکین میں جہانگیر بدر، میر لشکری رئیسانی، رکن قومی اسمبلی اعجاز جھکرانی، سینٹر ڈاکٹر بابر اعوان اور بلوچستان پیپلزپارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سعد اﷲ شاہ شامل ہیں۔


تاہم منگل کو آصف علی زرداری نے اس کمیٹی میں سینیٹر رضا ربانی، وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کو بھی کمیٹی کا رکن مقرر کیا ہے۔

یہ کمیٹی بلوچستان میں امن کے قیام، شکایات دور کرنے اور اسے قومی دھارے میں لانے کے موضوع پر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشش کرے گی۔

مفاہمتی کمیٹی دیگر سیاسی جماعتوں اور فریقین سے کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے رابطے کرے گی تاکہ صوبے میں حالات معمول پر لایا جا سکے۔

اعجاز جھکرانی شریک چیئرپرسن کی جانب سے جاری دعوت نامے خود سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو پہنچائیں گے۔

اس کانفرنس کے لیے کسی تاریخ کا ابھی تعین نہیں کیا گیا ہے تاہم پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے انعقاد کا تعین تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد آئندہ دس روز میں کر دیا جائے گا۔

کمیٹی کے قیام کے وقت ایک بیان میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کی محرومیاں اور شکایات دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس بابت پہلا قدم ان سے ماضی میں کی جانے والی زیادتیوں پر معذرت کر کے اٹھایا تھا۔

’صرف معافی کافی نہیں اور اس جذبے کو ٹھوس اقدامات کی شکل دینا انتہائی ضروری ہے۔‘

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی کا وفاق کو بچانے کی کوشش میں ساتھ دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو صوبائی خودمختاری، سیاسی کارکنوں کی گمشدگیاں، غربت، شدت پسندی میں اضافہ اور بڑے منصوبوں پر مقامی آبادی کے تحفظات دور کیے بغیر عمل درآمد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

بلوچستان کے نئے وزیر اعلٰی کی جانب سے بلوچ قوم پرست شدت پسندوں کو مذاکرات کی پیشکش کا ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا ہے۔ کئی کالعدم شدت پسند تنظیمیں اب صرف آزادی کی بات کر رہی ہیں۔

ایسے میں کل جماعتی کانفرنس اس تعطل کو دور کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج
27 March, 2008 | پاکستان
پی پی پی کی بلوچوں سےمعافی
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد