BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 April, 2008, 02:03 GMT 07:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قید میں ہلاکت، اہل خانہ سےافسوس

شہباز شریف
شہباز شریف مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے ایک کیس کا سامنا کر چکے ہیں
مسلم لیگ نون کے صدر شہبازشریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے جمعہ کی رات کو پولیس کی حراست میں ہلاک ہونے والے اڑتیس سالہ شخص عبدالباسط کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

عبدالباسط لاہور پولیس کی حراست کے دوران ہلاک ہوگئے تھے اوران کے اہل خانہ کا کہنا ہےان کو پولیس نے تشدد کر کے ہلاک کیا ہے۔عبدالباسط دوبئی میں ٹیکسی ڈرائیور تھے۔ پولیس نے چودہ اپریل کی رات کو انہیں چرس رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ عبدالباسط اگلی صبح حوالات میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

کیپٹل سٹی پولیس چیف ملک اقبال نے اس واقعہ کا نوٹس لیا جس پر تھانہ باغبانپورہ کے ایس ایچ او اور انچارچ انوسٹی گیشن کو معطل کردیا گیا تھا۔ جبکہ عبدالباسط کی ہلاکت کے الزام میں اسی تھانے کے سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبلوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس نے سب انسپکٹر کوگرفتار کر لیا ہے جنہیں سینچر کو مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ اس مقدمہ میں ملوث دوکانسٹیبلوں کو پولیس فوری طورگ پر گرفتار نہیں کرسکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالباسط کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے جبکہ عبدالباسط کے رشتہ داروں کا کہنا ہے انہیں تشدد کر کے مار گیا ہے اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ان کے بقول عبدالباسط سگریٹ نہیں پیتے تھے اس لیے ان کے پاس چرس کہاں سے آنی تھی۔

ہلاکت کیسے ہوئی؟
 پولیس کا کہنا ہے کہ عبدالباسط کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے جبکہ عبدالباسط کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ان کے مطابق دوماہ پہلے گھر میں ڈکیٹی کے لیے آنے والے دو ڈاکوؤں کو باسط نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس چاہتی کہ عبدالباسط مقدمہ واپس لے لیں لیکن انکار پر ان کو چرس کے الزام میں حراست میں لے لیا۔

ان کے مطابق دوماہ پہلے گھر میں ڈکیتی کے لیے آنے والے دو ڈاکوؤں کو باسط نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا اور اس کارروائی کے دوران ان کے ہاتھ پرگولی بھی لگی تھی۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس چاہتی کہ عبدالباسط مقدمہ واپس لے لیں لیکن انکار پر ان کو چرس کے الزام میں حراست میں لے لیا۔

عبدالباسط کے جنازہ میں شریک افراد نے پولیس کی طرف سے دھمکیاں دینے پر مشتعل ہوکر جنازہ میں موجود دو پولیس اہلکاروں کی پٹائی کردی تھی جبکہ ان کی موٹر سائیکل کو اگ لگا کر احتجاج کیا تھا۔

وزیر اعلیْ پنجاب نے جمعہ کی دوپہر عبدالباسط کے گھر تعزیت کے لیے جانا تھا لیکن وہ جمعہ کی رات کو شہباز شریف کے ہمراہ تعزیت کے لیے گئے۔

وزیر اعلیٰ دوست محمد کھوسہ نے عبدالباسط کے اہل خانہ کے لیے پانچ لاکھ امداد اور ان کی چھ سالہ بیٹی کے لیےمفت تعلیم کا اعلان کیا۔

اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ صوبے کے تھانے میں اس قسم کا کوئی واقعہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔شہباز شریف نے ڈی آئی جی ملک اقبال کو ہدایت کی کہ عبدالباسط کی ہلاکت کے مقدمہ کی خود نگرانی کریں گے۔

سینئر صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض کے علاوہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی نے عبدالباسط کے اہل خانے سے جاکر تعزیت کی۔

اسی بارے میں
صحافیوں سے تشدد پر احتجاج
18 April, 2005 | پاکستان
شہباز شریف: ضمانت کی توثیق
08 December, 2007 | پاکستان
شہباز کے خلاف درخواست مسترد
04 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد