BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 February, 2008, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز کے خلاف درخواست مسترد

شہباز شریف
شہباز شریف کو اسی مقدمے کی وجہ سے نا اہل قرار دیا گیا تھا
لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کو مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کیس میں شامل تفتیش کرنے کی درخواست کو مسترد کردی ہے۔

یہ درخواست مدعی سعید الدین کی جانب سے ان کی وکیل آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ شہباز شریف مقدمہ کی تفتیش کے وقت ملک میں نہیں تھے اور اسی وجہ سے شامل تفتیش نہیں ہوسکے اس لیے ان کو شامل تفتیس کیا جائے اور اس مقصد کے لیے تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے۔

عدالت کے روبرو شہباز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اس درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے اور جب ایک مرتبہ مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے تو مقدمے کا دوسراچالان پیش نہیں کیا جاسکتا۔

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے خلاف کوئی ٹھوس شہادت نہیں ہے اور ان کو سیاسی عناد کی بنیاد پر اس مقدمہ میں ملوث کیا گیا ہے۔

عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد شہبازشریف سے ازسر نو تفتیش کے لیے درخواست کو مسترد کردیا۔

عدالت نے شہباز شریف کی اس مقدمہ سے بریت کے لیے درخواست پر کارروائی کے لیے سولہ فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ آئندہ سماعت وکلاء بریت کی درخواست پر دلائل دیں گے۔

شہباز شریف پر یہ مقدمہ سنہ انیس سو اٹھانوے میں ان کی وزارتِ اعٰلی کے دور میں ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں پانچ نوجوانوں کی ہلاکت کے قریباً تین برس بعد سنہ دو ہزار ایک میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر درج ہوا تھا اور اس کے مدعی ہلاک شدگان میں سے ایک کے والد سعید الدین ہیں۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سنہ دو ہزار تین میں عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے پر شہباز شریف کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیےگئے تھے۔تاہم شہباز شریف کے بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا۔

پچیس نومبر کو پاکستان آمد کے بعد مدعی سعید الدین نے عدالت میں دوبارہ درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اب جبکہ شہباز شریف پاکستان میں ہیں تو پولیس انہیں کیوں گرفتار نہیں کر رہی۔

اس پر عدالت نے پولیس حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔وطن واپسی کے بعد شہباز شریف نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر خود کو عدالت کے حوالے کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
شہباز شریف: ضمانت کی توثیق
08 December, 2007 | پاکستان
نواز لیگ کے انتخابی کیمپ سے
19 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد