BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 April, 2008, 06:04 GMT 11:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان: کارروائی سے مذاکرات کو دھچکا

امام ڈھیری فائل
اس طرح کی کارروائیوں سے عسکریت پسندوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا: مولوی عمر
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے سوات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری پر دوبارہ قبضے اور عسکریت پسندوں کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے امن اور مذاکرات کے لئے جاری کوششوں کو دھچکا لگے گا۔

جمعرات کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے عسکریت پسندوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن نئی حکومت کیطرف سے امن مذاکرات اور خیر سگالی کے جو اشارے مل رہے ہیں ان کو دھچکا ضرور لگے گا۔

انہوں نے کہا ’ طالبان چاہتے ہیں کہ اس ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہو، کوئی جنگ وجدل نہ ہو لیکن لگتا ہے کہ سکیورٹی فورسز امن کے قیام میں مخلص نہیں ہیں۔ ‘

انہوں نے کہا کہ امام ڈھیری مرکز سوات کے عوام کی ملکیت ہے۔ اگر وہاں لوگوں نے جاکر صفائی کی اور نماز پڑھی تویہ کوئی جرم تو نہیں۔ انہوں نے کسی حکومتی مرکز یا چوکی پر حملہ تو نہیں کیا۔

ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائی سے حکومت کی امن بات چیت کے لئے جاری کوششیں متاثر ہونگی اور مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔

مولوی عمر نے کہا کہ نئی حکومت کی طرف سے طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش کے بعد عسکریت پسندوں کی جانب سے بھی مثبت جواب دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں دونوں طرف سے خیر سگالی کے پیغامات اور خطوط کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لیکن تاحال باضابطہ طور پر بات چیت کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق سوات میں طالبان جنگجوؤں کا ایک گروپ گزشتہ روز مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری گیا اور وہاں صفائی کی۔ بعد میں وہاں مقامی لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے۔

جمعرات کی صبح سکیورٹی فورسز نے اچانک مرکز پر چھاپہ مارا اور وہاں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد تین جگجوؤں کو گرفتار بھی کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گٹ پیچار کے علاقوں میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھاری توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں
سوات بم دھماکہ، تیرہ ہلاک
22 February, 2008 | پاکستان
سوات آپریشن میں 41 گرفتار
12 January, 2008 | پاکستان
سوات میں فوج کی پیش قدمی
06 January, 2008 | پاکستان
سوات بمباری، سات شہری ہلاک
05 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد