سندہ لبریشن آرمی ،حقیقت یا افسانہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور امریکا میں مقیم سندھیوں کی تنظیم ورلڈ سندھی کانگریس نے پاکستانی دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر شیریں مزاری کے اس مضمون کوگمراہ کن قرار دیا ہے جس میں انہوں نے ورلڈ سندھی کانگریس پر فلاحی کاموں کے لیے جمع کیے گئے فنڈز پاکستان میں سندھ لبریشن آرمی کو فراہم کرنے کےالزامات لگائے ہیں۔ پاکستانی قوم پرستی کےحوالے سے مقبول دفاعی تجزیہ نگار اور انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر شیریں مزاری کا ’امریکی خطرات کو سمجھنے کا وقت‘ کےحوالے سے ایک مضمون پانچ مارچ کی انگریزی اخبار دی نیوز میں شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے بلوچ اور سندھی قوم پرست تنظیموں کو آڑے ہاتھ لیا تھا ۔ شیریں مزاری نے بلوچ لبریشن آرمی کے بعد سندھ لبریشن آرمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اپنےمضمون میں لکھا ہےکہ ورلڈ سندھی کانگریس اور ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ کو امریکہ اور برطانیہ میں فلاحی کاموں کےلیے ملنے والے فنڈز کا درست استعمال نہیں ہو رہا اور امریکہ اپنی سرزمین پر ان کی سرگرمیوں کے بارے میں خاموش ہے۔ ان کےمطابق پاکستان میں چند امریکی اہلکاروں نے دونوں گروپوں کےممبران سے روابط برقرار رکھے ہیں۔شیریں مزاری کےمطابق دونوں گروپ سندھ لبریشن آرمی کی مالی مدد کر رہے ہیں جس نے سندھ میں ہونے والے حالیہ بم دہماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ورلڈ سندھی کانگریس کے برطانیہ میں مقیم چئرمین ڈاکٹر حلیم بھٹی نے شیریں مزاری کے اس مضمون کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مزاری جان بوجھ کر ان کی تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں قارئین کی غلط رہنمائی کر رہی ہیں۔ ان کےمطابق وہ انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والے ایڈووکیسی گروپ ہیں اور ان کی تمام مالی تفصیلات ٹیکس سٹیٹمنٹ میں موجود رہتی ہیں۔حلیم کے مطابق وہ پاکستان اور سندھ میں تشدد کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں ایک سیکولر اور جمہوری معاشرے کا قیام عمل میں آئے۔ سندھ لبریشن آرمی کا وجود ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو ان کا سربراہ کون ہے؟ کب سے ان کی سرگرمیاں جاری ہیں؟ اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو گزشتہ تین سالوں سے خود سندھی قوم پرست حلقوں میں زیر بحث رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کےمطابق سندھ لبریشن آرمی کی سرگرمیوں کےخلاف دو ہزار پانچ میں خفیہ ایجنسیوں کےاہلکاروں کی مدد سے ایک آپریشن کیا گیا تھا۔ صوبے کےمختلف شہروں سے جئے سندھ متحدہ محاذ نامی نئی تنظیم کے درجنوں کارکنان کو لبریشن آرمی کے شک میں گرفتار کیا گیا تھا۔اور انہیں تین مارچ کو کراچی میں صوبے کے پولیس سربراہ کی پریس کانفرنس کےدوران غیر ملکی ایجنٹ قرار دیکر پیش کیا گیا تھا۔ جن لوگوں کو غیر ملکی ایجنٹ اور دہشتگردی کےالزامات میں گرفتاری کے بعد پیش کیاگیا تھا ان میں پینتیس سالہ جامشورو تھرمل پاور کے اسسٹنٹ سب انجنیئر اصغر شاہ بھی شامل تھے۔ وہ جئے سندھ متحدہ محاذ کےجنرل سیکریٹری ہیں اور اب حیدرآباد جیل میں قید ہیں۔ ان کےساتھ ضلع دادو کے ایک گریجویٹ دکاندار فیاض جانوری، سیہون کے انٹر پاس مچھیرے شبیر ملاح، ٹنڈو محمد خان کے چھیالیس سالہ پرائمری ٹیچر مظہر بھٹی، ٹنڈو محمد خان کے پچیس سالہ مزدور عمران لغاری، ٹنڈو محمد خان کے ڈپلومہ ہولڈر پرائیویٹ ڈسپینسر ثناءاللہ بھٹی، جامشور تھرمل پاور سٹیشن کے ملازم غلام نبی سہارن اور ایک اور اسسٹنٹ سب انجنیئر مظفر بھٹو قید ہیں۔ جئےسندھ متحدہ محاذ کے رہنماء نواز خان زؤنر کےمطابق ان کے تمام ساتھیوں کو خفیہ ایجنسیوں نے مختلف شہروں سے چھاپے مار کر گرفتار کیا اور غیرقانونی حراست میں رکھنے کے بعد انہیں بم دھماکوں کے مقدمات میں پولیس کےحوالے کردیا۔ خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں سندھ یونیورسٹی جامشور کےایک ملازم سمیع اللہ کلہوڑو بھی شامل تھے جو ہالا کے پولیس لاک اپ سے فرار ہوئے۔ لیکن تشدد کے زخموں کا علاج کرواتے ہوئے کراچی کی ایک ہسپتال میں پانچ مارچ دو ہزار پانچ کو فوت ہوگئے۔ سمیع کلہوڑو کی ہلاکت پر سندھ میں قوم پرست جماعتوں نے مل کر حیدرآباد میں احتجاج کیا تھا ۔ جئے سندھ کے بزرگ رہنماء عبدالواحد آریسر نے کہا تھا کہ سمیع کلہوڑو کوقتل کرنے والے جلیاں والا باغ کے جنرل ڈائر کا انجام یاد رکھیں جسے تئیس سال بعد لندن اسکوائر میں قتل کیا گیا تھا۔ نواز خان کو دسمبر دو ہزار پانچ میں تب گرفتار کیا گیا تھا جب وہ روپوشی کےدوران عبدالرزاق کے فرضی نام سے ٹرین میں کراچی سے حیدرآبا جا رہے تھے۔ مگر ان کی جیب سے ملنے والے بینک اے ٹی ایم کارڈ پر ان کا اصل نام نواز خان درج تھا۔ ان دنوں جئے سندھ متحدہ محاذ ممتاز بھٹو کی سربراہی میں قائم سندھ قومی اتحاد کی رکن جماعت بنی تھی اور نواز کو ممتاز بھٹو کے کراچی کے گھر پر ہونے والےاجلاس میں شرکت کے بعد واپسی پر کوٹری کےقریب ویران علاقے میں ٹرین روک کر گرفتار کیا گیا تھا۔ جئےسندھ متحدہ محاذ کے تمام گرفتار رہنماء اور کارکنان ان دنوں حیدرآباد جیل میں قید ہیں۔ان کے خلاف بجلی کی مین پانچ سو کے وی ٹرانسمیشن اور ریلوے ٹریک پر بم دھماکوں کے علاوہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ جن میں انہیں عمر قید کی سزائیں بھی ہوسکتی ہیں۔ سندھ میں پہلی مرتبہ سندھ لبریشن آرمی کا نام اس کمپیوٹر کمپوزڈ پمفلیٹ کے ذریعے سامنے آیا جو ریلوے ٹریک اور بجلی کی مین ٹرانسمیشن کی لائنوں کو ملانے والےکھمبوں پر بم حملوں کے بعد کثرت سےملنے لگے۔ پمفلیٹ میں گوریلا کمانڈر غلام حسین چانڈیو اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے رہتے تھے۔ خفیہ ایجنسیوں کےمطابق وہ کمانڈر غلام حسین چانڈیو دراصل جئے سندھ متحدہ محاذ کے چئرمین شفیع برفت ہیں۔ نواز خان زؤنر کےمطابق خفیہ ایجنسیوں کی تحویل میں پوچھ گچھ کے دوران ان سے بارہا شفیع برفت کےبارے میں پوچھا گیا کہ وہ کتنی بار دبئی یا ہندوستان گئے ہیں اور انہوں نے ٹریننگ کہاں سے حاصل کی ہے۔ جئے سندھ متحدہ محاذ نے بم دہماکوں اور لبریشن آرمی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ جئے سندھ متحدہ محاذ نامی نیا گروپ ان قوم پرست کارکنوں نے کوئی پانچ سال قبل قائم کیا تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی اور بشیر قریشی کے جئے سندھ قومی محاذ سے اختلافات کی بناء پر علیحدگی اختیار کی تھی۔ جئے سندھ متحدہ کے چئرمین پرانے قومپرست کارکن وہ شفیع برفت بنے جن کے خلاف ڈاکٹر قادر مگسی کےساتھ حیدرآباد کے لسانی فسادوں کے بدترین دن تیس ستمبر کے واقعے کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ تیس ستمبر انیس سو اٹھاسی کو گاڑیوں سے حیدرآباد کے بازاروں میں فائرنگ ہوئی تھی جس کے نتیجےمیں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شفیع گرفتار ہوئے نہ کبھی عدالتوں میں پیش ہوئے۔ ان کی تقریباً تمام سیاسی زندگی روپوشی میں گزری ہے۔ جئے سندھ متحدہ محاذ کی تمام قیادت اور کارکنان قید میں ہیں۔ مگر شفیع برفت اور ان کے چند ساتھی اب بھی روپوش ہیں۔ حکومت سندھ نے ستمبر دو ہزار پانچ میں شفیع برفت، خلیل خاصخیلی، مظفر بھٹو اور ستار ہکڑو کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ انعامات کا اعلان کیا تھا۔ جئےسندھ متحدہ محاذ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے خلاف خفیہ ایجنسیوں کےآپریشن میں پولیس کےایس پی پیر فرید جان سرہندی نے سرگرم کردار ادا کیا جو ان دنوں حیدرآباد میں ایس پی جانچ تھے اور آج کل پیپلزپارٹی کے رہنماء آصف علی زرداری کے سیکورٹی انچارج ہیں۔ پولیس ریکارڈ میں سندھ لبریشن آرمی کے لیے جئے سندھ متحدہ محاذ سیاسی چھتری کے طور پر کام کر رہی ہے۔ مگر جئے سندھ متحدہ محاذ کے رہنماء اس الزام کو غلط پروپینگڈا قرار دے رہے ہیں۔ جئے سندھ متحدہ محاذ سندھی قوم پرستوں کے گروہوں میں ایک نیا اور چھوٹا ساگروہ ہے جس کے اتحادی کم اور مخالفین زیادہ ہیں۔ جئے سندھ متحدہ محاذ کے حیدرآباد جیل میں قید جنرل سیکریٹری اصغر شاہ نے اپنے والد غلام شاہ کو ایک خط میں لکھا کہ انہیں پولیس تشدد نے معذور بنا دیا ہے اور وہ ریڑھ کی ہڈی کے درد کی وجہ سے سہارے کے بغیر باتھ روم تک چل نہیں سکتے اور ان کا علاج کروایا جائے۔ سید غلام شاہ کو سندھ لبریشن آرمی کا تو علم نہیں مگر وہ اپنے بیٹے کے علاج کے لیے پریشان ہیں۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر کے مشورے اور عدالت کی ہدایات کے باوجود انہیں ان کے بیٹے کا جیل سے باہر علاج کروانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سندھ لبریشن آرمی سندھی قوم پرستی کے لیے ایک نیا نام ضرور ہے مگر قوم پرست رہنماؤں کےمطابق اس بہانے دو ہزار پانچ اور دو ہزار چھ میں خفیہ ایجنسیوں نے پولیس کا سہارہ لیے بغیر قوم پرست کارکنوں کی سرعام بازاروں، دکانوں اور گلیوں سے گرفتاریاں کیں۔ جس کےبعد ایک بحث شروع ہوئی کہ یہ کون سی لبریشن آرمی ہے جن کے کمانڈر پرائمری ٹیچر اور دیگر سرکاری ملازمین ہیں جو اپنی گلی محلوں میں گرفتار ہونےکے لیے دستیاب ہیں۔ |
اسی بارے میں کھوکھرا پار پرقوم پرست ناخوش03 February, 2006 | پاکستان کالاباغ: امریکہ سے درخواست 29 December, 2005 | پاکستان ’ڈیم کا انتخاب کریں یا پاکستان کا‘22 December, 2005 | پاکستان کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی22 December, 2005 | پاکستان سندھ حزب اختلاف کی کوشش ناکام13 August, 2005 | پاکستان واشنگٹن: مشرف مخالف مظاہرہ20 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||