BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 March, 2008, 21:54 GMT 02:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر اعظم کی اسامیاں

اگر آپ پاکستان کے پاپولر لیڈر ہیں تو پھر وزیر اعظم کا عہدہ آپ کے لیے’تخت یا تختہ‘ کا سفر بن جاتا ہے ورنہ یہ بھوربن میں چائے پارٹی ہے یا میوزیکل چیئر کا کھیل جسے ملک کا ’سب سے منافع بخش عہدہ‘ سمجھ کر اسکی دوڑ میں سیاستدان یا غیرسیاستدان، بقول شاعر ’مرد طوائف بن جاتا ہے‘کے عمل سے گذرنے سے بھی نہیں چونکتے۔

مجھے نہیں معلوم کہ آصف علی زرداری اب بھی ’پرائم منسٹر ہاؤس یا سینٹرل جیل‘ والی بات کیا کرتے ہیں یا نہیں۔

پاکستان میں کئي برسوں اور دہائیوں سے سیاستدان اور غیر سیاستدان ایک موٹی اسامی کی طرح وزراتِ عظمی کی دوڑ میں اپنی عمریں لٹاتے رہے ہیں۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جو عمر بھر پاکستان کے اس ٹاپ عہدے کے مستقل امیدوار رہے۔

وہ دن گئے جب اس ملک میں ڈاکٹر، خان صاحب، حسین شہید سہروردی یا چودہری محمد علی جیسے وزرائےاعظم ہوا کرتے تھے۔

وزارت عظمٰی کی دوڑ پاکستان میں کافی پرانی ہے۔ اتنی پرانی جب پاپولر وزرائےاعظم کی لاشیں راولپنڈی سے اندرون ملک بھیجی جانے لگيں۔

وزارت عظمی کا عہدہ پاکستان اس وقت سے امپورٹ کرنے لگا جب امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو واشنگٹن سے بلوا کر وزیر اعظم کا حلف اٹھوایا گیا۔

تب سے سوٹ اور شیروانی (جو ملک کے بانی محمد علی جناح نے شاید ایک آدھ مرتبہ پہنی ہوگی لیکن قومی لباس بن گئي) سلوانے کا آرڈر دینے کا بھی رواج پڑ گيا بلکہ غلط یا صحیح آج تک پاکستان میں یہ خیال تقویت پکڑے ہوئے ہے کہ امریکہ سے ایک ٹیلیفون پر پاکستان میں حکومتیں بنتی بدلتی رہتی ہیں۔(یہ اور بات ہے کہ امریکی انتظامیہ امریکہ میں وال مارٹ کے مینیجر کی تقرری پر بھی اثر انداز نہیں ہوسکتی)۔

انیس سو ستر کے انتخابات کے نتیجے میں تب کے پاکستان پر وزارت عظمیٰ کا حق سب سے بڑی اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان کا بن کر آیا تو یحیٰی خان سمیت دیگر جنریلوں نے عوامی لیگ کو حکومت دینے کے بجائے ہنگامی حالات نافذ کر دیے۔

حکومت سات غیر مقبول اور کم مقبول پارٹیوں کے اتحاد کو دے کر ایک گمنام سیاستدان نور الامین کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ اس اتحاد کو لوگ ’سیون اپ‘ کہا کرتے تھے۔

تاریخ کاالمیہ کہہ لیں یا مذاق کہ ذوالفقارعلی بھٹو جیسے مقبول لیڈر انیس سو اکہتر کے آخری دنوں میں نورالامین کی وزارتِ عظمی کے تحت یحییٰ خان کی صدرات میں ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ بھی قبول کر بیٹھے تھے۔

خان عبد الولی خان وہ لیڈر تھے جنہیں دو مرتبہ ضیاء الحق نے وزارتِ عظمیٰ کی پیشکش کی جو انہوں نے دونوں مرتبہ مسترد کردی تھی۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد ان کی پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر غلام مصطفیٰ جتوئي ہمیشہ وزرات عظمی کے عہدے کے اس قدر مستقل امیدوار رہے کہ انہیں’پرائم منسٹر ان ویٹنگ‘ کہا گیا۔

اس سے قبل ایم آر ڈی تحریک کی قیادت کے دوران بھی غلام مصطفیٰ جتوئي وزیراعظم بننے کے خواہشمند تھے۔ جب وہ امریکہ سے واپس آئے تو حزب مخالف کے وڈیروں کو یہ تاثر ملا کہ چند ہی دنوں کی تحریک کے بعد غلام مصطفیٰ جتوئی وزیر اعظم بن جائيں گے۔

ایم آر ڈی تحریک کے عروج پر جنرل ضیا الحق کے تحت ہونیوالے غیر جماعتی انتخابات کے نتائج میں’سندھ کے احساس محرومی‘ کی بنیاد پر پیر پگاڑو کی سفارش سے محمد خان جونیجو وزیر اعظم بنا دیے گئے۔

لیکن جونیجو اور ضیا ء الحق میں تب ٹھن گئی جب وزیراعظم نے اوجڑی کیمپ کی تحقیقات کا حکم دیا اور جرنیلوں سے بڑی بڑی کاریں لے کر ہزار سی سی کی سوزوکی کاریں استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔

یہ جو مشرف حکومت اور اس کے پیشرو پریس کی نام نہاد آزادی کے دعوے کرتے ہیں، اصل میں محمد خان جونیجو ہی کی حکومت تھی جس نے بدنامِ زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس منسوخ کیا تھا۔

جب اپنی حکومت کی معطلی کے بعد محمد خان جونیجو اسلام آباد سے زندہ سلامت واپس اپنے گاؤں پہنچے تھے تو (ان کےگاؤں) سندھڑی کے لوگوں نے انہیں ’فاتح ضیا ءالحق‘ قرار دیا تھا۔

کہتے ہیں کہ ضیاءالحق کی موت کے بعد بھی غلام مصطفیٰ جتوئی کی وزراتِ عظمی کی خواہش دم نہ توڑ سکی۔ آخر کار غلام مصطفیٰ جتوئی کو چھ اگست انیس سو نوے کو اس وقت نگران وزیراعظم بنا دیا گیا جب غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی۔ ان کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات کے متعلق خود غلام مصطفیٰ جتوئی نے اعتراف کیا تھا کہ ان میں زبردست دھاندلیاں ہوئیں۔

ملک میں صدر کے ہاتھ میں، بقول شخصے، آئین میں دو سو اٹھاون بی جیسی بارودی سُرنگ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد میں ہمیشہ بیک وقت آدھے درجن سے زیادہ امیدوار وزراتِ عظمٰی کے لیے منتظر نظر آتے ہیں۔

انیس سو ترانوے میں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی سے دو دن قبل تک اسلام آباد کے فیڈرل لاجز میں رہنے والے بلخ شیر مزاری اپنے پڑوسیوں اور دوستوں کو جب بتاتے تھے کہ وہ دو روز کے بعد نگران وزیرِ اعظم کا حلف اٹھانے والے ہیں تو ان پر کوئی اعتبار نہیں کرتا تھا۔ انہی بلخ شیر مزاری کی نگران حکومت میں آصف زرداری کو وزیرِ واپڈا بنایا گیا تھا۔

نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی جنرل وحید کاکڑ کے ہاتھوں ’جبری چھٹی‘ پر جب امریکہ سے ورلڈ بینک کے سابق نائب صدر کو بلا کر نگران وزیر اعظم بنایا گیا تب سے امریکہ میں کئي پاکستانی سیاسی اور غیر سیاسی لوگ وزرات ِعظمٰی اور وزارتوں کے مستقل امیدوار رہتے ہیں۔

ملک معراج خالد جیسے اللہ لوگ سمجھے جانے والے بھی نگران وزیر اعظم بنے۔

پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد نواز شریف وہ طاقتور وزیر اعظم تھے جو اختیارات کو دیکھتے ہوئے ایک سیویلین ڈکٹیٹر ہی نظر آتے تھے۔

سب سے کامیاب کہانی سٹی بینک کے عملدار شوکت عزیز کی ہے جو ایک ڈالر خرچ کیے بغیر پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ شوکت عزیز نے نیویارک میں پاکستانیوں کی ایک تنظیم بنالی تھی۔ ان تقاریب نے پاکستانی فوجی اور سول اسٹیبلشمنٹ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ شوکت عزیز کو کئی لوگ ’شارٹ کٹ عزیز‘ بھی کہتے ہیں۔

تین ماہ کے لیے چودہری شجاعت حسین، کجھ عرصے کے لیے ظفر اللہ جمالی بھی پاکستان کے وزرائے اعظم رہے جبکہ ناکام امیدواروں میں چودھری پرویز الہٰی اور ہمایوں اخترعبدالرحمان کے نام بھی سنے گئے

پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم اور پی پی پی میں قومی مفاہمت کا میوہ چکھنے والی زرداری اینڈ کمپنی (جسے اب تک تکلفاً پاکستان پیپلز پارٹی ہی کہا جارہا ہے) کے ایک کندھے پر بھی اب وزراتِ عظمٰی کو جانے والی نئی سیڑھی رکھی ہوئی ہے۔

مشرفمشرف مشینری لیور
زرداری،مشرف مشینری اور مفاہمت
ذوالفقار علی بھٹوبھٹو نہ چھوڑے
’جن چھوڑے بھوت چھوڑے بھٹو نہ چھوڑے‘
مخدوم امین فہیم’مہمان اداکار نہیں‘
اندرونی اختلافات واضح ہونے لگے ہیں
ایمرجنسیآمریت کا ہاتھی
’آپ ایک ڈکٹیٹر سے کیا توقع کر سکتے ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد