بےنظیر بھٹو کا نام دو ریفرنسوں سے خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی احتساب عدالتوں نے سابق وزیرِاعظم اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کا نام دو ریفرنسوں سے خارج کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کورٹ نمبر تین کے جج نے ایس ایس جی کوٹیکنا کیس میں سے جبکہ عدالت نمبر چار کے جج نے ٹریکٹر کیس سے بے نظیر بھٹو کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔ بدھ کو راولپنڈی کی تین عدالتوں میں بےنظیر بھٹو، ان کے شوہر آصف علی زداری، نصرت بھٹو، یوسف تالپور اور رحمٰن ملک کے خلاف چھ ریفرنسوں کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران نیب کے پراسکیوٹر جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔ نیب کی عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بیس فروری تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ نیب کی عدالت نے پندرہ جنوری کو سماعت کے دوران اثاثہ جات ریفرنس میں بےنظیر بھٹو کا نام خارج کردیا تھا۔ ’ایس جی ایس‘ اور ’کوٹیکنا‘ نامی دونوں یورپی کمپنیاں درآمد کردہ سامان کی مالیت طے کرنے اور اس حساب سے ٹیکس وصول کرنے کی سفارشات کا کام کرتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں دونوں کمپنیوں کو پری شپمینٹ انسپیکشن کے ٹھیکے اس بنیاد پر دیےگئے کہ بعض پاکستانی درآمد کنندہ، درآمد کردہ اشیاء پر ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کی قیمتیں کم ظاہر کرتے ہیں اور اس طرح خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ واضح رہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں ہونے والی مصالحت کے نتیجے میں صدرِ پاکستان نے ’قومی مصالحت آرڈیننس‘ نامی قانون جاری کیا تھا جس کے تحت یکم جنوری انیس سو چھیاسی سے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے تک جو بھی مقدمات درج ہوئے اور تاحال زیر سماعت ہیں وہ ختم ہوجائیں گے۔ جب پانچ اکتوبر کو یہ قانون نافذ کیا گیا تو اُسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ بارہ اکتوبر کو سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر ان آئینی درخواستوں کی مکمل سماعت کے بعد عدالت یہ قرار دے کہ یہ آرڈیننس غیر آئینی ہے تو پھر کوئی شخص اس سے مستفید نہیں ہو سکے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد راولپنڈی کی احتساب عدالتوں نے قومی مصالحتی آرڈیننس کے تحت سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف بدعنوانی کے دو مقدمات ختم کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ متعلقہ قانون کے بارے میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک مؤخر کر دیا تھا۔ ادھر سندھ کے سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم نے مصالحتی ارڈینینس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں صدر مشرف صحافی پر برس پڑے 25 January, 2008 | پاکستان ’اپنے ہی شہر اجنبی بن گئےتھے‘04 January, 2008 | پاکستان الیکشن ملتوی ہونے کا امکان 01 January, 2008 | پاکستان بلاول چیئرمین، الیکشن میں شرکت31 December, 2007 | پاکستان انتخابات کا حتمی فیصلہ آج، انعقاد میں’چند ہفتے‘ کی تاخیر کا خدشہ31 December, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی: انیس سالہ بلاول چیئرمین، الیکشن لڑنے کا اعلان30 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||