BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 January, 2008, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی جماعتوں سےملکر کام کریں‘
صدر مشرف جب تک وزیرِ اعظم کے ساتھ رہے، لندن میں ان کے خلاف ایک پرجوش مظاہرہ جاری رہا
برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے پاکستان کے صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف سے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔

لندن میں صدر پرویز مشرف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کےدوران برطانوی وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان کے صدر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ فروری میں ہونے والے انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں گے۔

صدر مشرف کی برطانوی وزیرِ اعظم سے ملاقات کے دوران حقوقِ انسانی کی تنظیموں، وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے صدر پرویز مشرف کے خلاف ایک پرجوش مظاہرہ کیا اور اس وقت تک نعرے لگاتے رہے جب تک پرویز مشرف اور صہبا مشرف وہاں سے چلے نہیں گئے۔ اس موقع پر صدر مشرف کے حامیوں کی ایک مختصر تعداد نے بھی اپنے ممدوح کے حق میں نعرہ بازی کی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی صدر کے ساتھ دہشت گردی اور انتہا پسندی ختم کرنے جیسے مسائل پر بات چیت کی ہے اور یہ کہ برطانیہ اور بین الاقوامی برادری اس سلسلے میں پاکستان کی کیا مدد کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سکیورٹی پر بھی گفتگو ہوئی۔

صدر مشرف کے برطانیہ کے دورے کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں تھی

صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ گورڈن براؤن کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ معاملات اور ان کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ بات چیت میں فروری کے انتخابات، جمہوریت کی طرف منتقلی اور دہشت گردی جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے برطانوی وزیرِ اعظم کو بتایا کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے۔

صدر مشرف جو گزشتہ ہفتے سے یورپ کےدورے پر ہیں، مختلف یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران اور اخبار نویسوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بار بار یہ وضاحتیں دیتے رہے ہیں کہ انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں گے۔

پریس کانفرنس میں پوچھے گئے اس سوال پر کہ کیا پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں ناکام نہیں ہوا، صدر مشرف نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کو ناکامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سو فیصد کامیابی ہر جگہ ممکن نہیں ہوتی۔

’ہم نے افغان بارڈر کو مضبوط کیا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کئی دیگر اقدام کیے ہیں۔ القاعدہ کے شدت پسند پہلے شہروں میں تھے لیکن اب وہاں سے پہاڑوں میں چلے گئے ہیں لیکن ان کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔‘

مدرسوں کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وہاں جانے والے بچوں کو بہتر سکول میسر ہوں تو وہ بچے مدارس میں نہیں جائیں گے۔ ’لیکن اس کے لیے ہمارے پاس وسائل کم ہیں‘۔

اس سوال پر کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا لیکن برطانیہ، انڈیا کے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکن بننے کی حمایت کر رہا ہے، صدر مشرف کے ساتھ کھڑے گورڈن براؤن نے کہا کہ اس کا تعلق اقوامِ متحدہ کی اصلاحات کے ساتھ ہے جو کچھ عرصے سے جاری ہیں۔

حزب اختلاف ’تحریک کے لیے تیار‘
جمہوریت کے لیے حزب اختلاف مہم چلائےگی
فوجی کے تمغےالفاظ کی جادوگری
’چور کو گھر سے نکل جانے دیں‘
مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
پرویز مشرف’آئے گا پھر دوبارہ‘
جنرل مشرف کی صدارتی مہم کا آغاز
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد