BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 January, 2008, 22:08 GMT 03:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں پولیو سے بچاؤ مہم

حکومت کے مطابق پولیو کیسز میں کمی آئی ہے
پاکستان میں نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ برس پولیو کے کیسز کی تعداد کم ہو کر اکتیس ہوگئی ہے اور جاری سال میں اس پر مکمل قابو پا لیا جائے گا۔

یہ بات نگران وفاقی وزیر صحت اعجاز رحیم نے سوموار کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس کو بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سال کی پہلی پولیو سے بچاؤ کی مہم منگل سے جمعرات تک چلائی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق تین کروڑ تیس لاکھ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو کے دو قطرے پلائے جائیں گے۔

تاہم نگران حکومت کی اس امید کے برعکس دوسری جانب صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر بائیس جنوری سے پولیو کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں ضلع سوات کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بات گزشتہ دنوں پشاور پریس کلب میں پولیو مہم کے آغاز کے بارے میں منعقدہ پریس بریفنگ کے بعد صوبہ سرحد کے محکمۂ صحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مصطفٰی نے بتائی تھی۔

مہم سوات میں نہیں
 صوبہ سرحد کے حکام نے بتایا کہ بائیس جنوری سے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں شروع کی جانے والی پولیو مہم میں سوات کو مقامی انتظامیہ کے کہنے پر شامل نہیں کیا گیا۔
صوبہ سرحد کے حکام نے بتایا کہ بائیس جنوری سے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں شروع کی جانے والی پولیو مہم میں سوات کو مقامی انتظامیہ کے کہنے پر شامل نہیں کیا گیا۔

محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں ضلع سوات کے چار لاکھ سے زائد بچے پولیو ویکسین کے قطرے پینے سے محروم ہوجائیں گے۔

پچھلے سال محکمۂ صحت کی موبائل ٹیموں نے طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں مولانا فضل اللہ کی سخت مخالفت کے باوجودگھر گھر جاکر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے تھے۔ تاہم سینکڑوں لوگوں نے بچوں کو پولیو ویکسین دینے سے انکار کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں پچاسی ہزار چار سو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر بچے تک پہنچنے کی اس مہم کے ذریعے کوشش کر رہی ہے۔ اس بابت کافی پیشرفت ہوئی ہے اور سال دو ہزار سات میں اٹھارہ اضلاع میں صرف اکتیس کیسز سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ انیس سو اٹھانوے سے شمالی علاقہ جات، دو ہزار سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور دو ہزار تین سے اسلام آباد میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی اور شمالی پنجاب کے گنجان آباد علاقوں میں بھی گزشتہ دو برس سے کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

پولیو سے بچاؤ کی مہم کے آغاز سے قبل ملک میں سالانہ پچیس سے تیس ہزار بچے اس بیماری کی بھینٹ چڑھ رہے تھے۔ وفاقی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے اعجاز رحیم نے کہا کہ وہ اس بیماری کے خاتمے کے لیے تمام وسائل فراہم کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد