BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 January, 2008, 18:34 GMT 23:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تبادلے فوری منسوخ کریں‘

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق
چیف الیکشن کمشنر کی منظوری کے بغیر کسی بھی افسر کا تبادلہ نہیں کیا جا سکتا
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق نے صوبہ سندھ میں پولیس افسران کے تبادلوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ ان تبادلوں کو فوری طور پر منسوخ کریں اور اس ضمن میں الیکشن کمیشن کو ایک رپورٹ پیش کریں۔

چیف الیکشن کمشنر نے سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل سے بیس نومبر سنہ دو ہزار سات سے لیکر اب تک صوبے میں ہونے والے پولیس افسران کے تبادلوں کی تفصیلی طلب کر لی ہے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے مطابق صوبہ سندھ کی پولیس کے اعلٰی حکام ایک دو یوم میں اس سلسلے میں ایک رپورٹ الیکشن کمیشن کو پیش کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے بہت سی شکایات موصول ہورہی تھیں کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے تبادلوں پر پابندی کے باوجود صوبے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی سطح پر تبادلے ہو رہے ہیں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔

 الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کی طرف سے بہت سی شکایات موصول ہورہی تھیں کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے تبادلوں پر پابندی کے باوجود صوبے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی سطح پر تبادلے ہو رہے ہیں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے یہ احکامات جاری کیے ہیں
سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد

انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے دوسرے صوبوں کی پولیس کے سربراہوں سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کے احکامات پر عملدرآمد کریں اور کسی بھی پولیس افسر کا تبادلہ کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن سے اجازت لینی چاہیے۔

واضح رہے کہ رولز کے مطابق انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی منظوری کے بغیر کسی بھی افسر کا تبادلہ نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا ہے کہ عام انتحابات میں چالیس دنوں کی تاخیر کے باوجود پولنگ اسٹیشنوں کی فہرستوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

سنیچر کے روز سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے سلسلے میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں نے چوبیسں دسمبر کو حتمی فہرست تیار کی تھی اور اسی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ملک بھر میں چونسٹھ ہزار ایک سو چھتہر پولنگ اسٹیشنز اور ایک لاکھ سترہ ہزار ایک سو چوہتر پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔

اٹھارہ فروری کو ملک میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں چونسٹھ ہزار ایک سو چھہتر پریذائیڈنگ افسر، تین لاکھ سینتس ہزار چھ سو چار اسسٹینٹ پریذائیڈنگ افسر اور ایک لاکھ سترہ ہزار ایک سو چوہتر مرد اور خواتین پولنگ افسران اپنے فرائض انجام دیں گے۔

اسی بارے میں
قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام
11 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد