ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | نیشنل لائرز گلڈ کے ممبرز اسلام آباد میں |
امریکی وکلاء کی ایک تنظیم نیشنل لائرز گلڈ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں اٹھارہ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات بین الاقوامی معیار کے مطابق آزاد، غیرجانبدار اور شفاف منعقد نہیں ہوسکتے۔ تنظیم کے مطابق اس خدشے کی وجہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر اعلانیہ اور غیراعلانیہ پابندیاں اور تین نومبر کا عدلیہ پر حملہ ہے۔ تنظیم نے امریکی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس نے جمہوریت کے نام پر دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ نیشنل لائرز گلڈ کا ایک آٹھ رکنی وفد پاکستان میں تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد کی صورتحال کے جائزے پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کرنے کے لیے ان دنوں پاکستان میں ہے۔ وفد نے گزشتہ دس روز پچاس سے زائد سرکاری اہلکاروں، وکلاء، ججوں، سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کی رائے جاننے کے لیے ملاقاتیں کی ہیں۔ تاہم حکومت نے انہیں برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور وکلاء رہنما اعتزاز احسن سے نہیں ملنے دیا۔ وفد نے پاکستان کے قانونی و سیاسی بحران پر ایک ابتدائی رپورٹ تیار کی ہے جسے جمعرات، گیارہ جنوری کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں باقاعدہ طور پر جاری کیاگیا۔
 | جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے  امریکہ نے ججوں کی بحالی کا مطالبہ نہ کرکے، ناصرف پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ سیکیورٹی سے متعلق اپنے طویل مدتی منصوبے پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔  نیشنل لائرز گلڈ کی رپورٹ |
نیشنل لائرز گلڈ نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں برطرف ججوں کو بحال نہ کرنے سے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدلیہ پر انتہائی منفی اثر ہوگا۔ رپورٹ میں امریکہ کی جانب سے ان ججوں کی بحالی کا مطالبہ نہ کرنے کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ججوں کی بحالی کا مطالبہ نہ کرکے، ناصرف پاکستان میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ سیکیورٹی سے متعلق اپنے طویل مدتی منصوبے پر بھی منفی اثر ڈالا ہے۔ وفد کے سربراہ ڈیوڈ گیسپاس نے اعتراف کیا کہ امریکی دوغلی پالیسی سے پاکستان جیسے ممالک کا نقصان ہو رہا ہے۔ وفد یہ رپورٹ بعد میں امریکی کانگریس کو بھی پیش کرے گا اور اسے امریکی عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ وفد کی ایک پاکستانی نژاد امریکی رکن صبا احمد سے جب دریافت کیا گیا کہ آیا اس رپورٹ کا امریکی قیادت پر بھی کوئی اثر ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں اس رپورٹ کا انتظار ہو رہا ہے اور اس کا اثر ہوگا۔ ’امریکہ میں یہ سال انتخابات کا ہے اور پاکستان اب تک اس بحث میں ایک اہم موضوع بن کر ابھرا ہے۔‘ لائرز گلڈ نے اپنی رپورٹ میں اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بارے میں کہا ہے کہ آزاد عدلیہ اور غیرجانبدار انتخابی کمیشن کی عدم موجودگی میں صاف و شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ ڈیوڈ گیسپاس نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے بےنظیر بھٹو مرحومہ کی حمایت ظاہر کرنا نا صرف غیرضروری تھا بلکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بھی تھی۔ ڈیوڈ گیسپاس کا کہنا تھا کہ بحثیت وکیل یہ ان کی قانونی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ جہاں بھی جمہوریت اور انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے کوشش کی جا رہی ہوں، وہ اس کی حمایت کریں۔
|