BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 November, 2007, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برماجمہوریت سے بہت دور: امریکہ
زلمے خلیلزاد
برمی فوج کو جمہوریت تسلیم کرلینی چاہے، زلمے خلیلزاد ۔
اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے نمائندے نے برما کے فوجی حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوے کہا ہے کہ وہ جمہوریت اور تبدیلی لانے والے عمل کو پوری طرح سے تسلیم کرنے سے ابھی بہت دور ہیں۔

یہ بات زلمے خلیلزاد نے اقوامِ متحدہ کے برما کے نمائندے ابراہیم گمباری کی ایک رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی جن کے مطابق برما کے فوجی حکمران مثبت تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ جب کہ خود برما کے اقوامِ متحدہ میں نمائندے کیؤ ٹینٹ سوی نے کہا کہ اس بات کا ’افسوس‘ ہے کہ لوگ اب بھی ان مذاکرات کو ’شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں‘۔

یہ اختلاف برما کے شہر رنگون میں ہونے والی ایک قیمتی پتھروں کی فروخت سے پہلے سامنے آۓ ہیں جو برما کی فوج کے لیے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں اور جس کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس دو ہفتہ پر مشتمل نیلامی کو بائیکاٹ کیا جائے۔

ابراہیم کمباری نے اقوامِ متحدہ کی سکورٹی کونسل کو بتایا کہ ان کے حالیہ برما کے دوراہ سے منسلک سارے مقاصد پورے نہیں ہو سکے لیکن اس دورے کے مثبت اثرات ضرور ہوئے ہیں، جب کہ مغربی سفارت کاروں کو برما کی فوجی حکومت سے کسی معنی خیز مذاکرات کی امید نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی برما نمائندے ابراہیم گمباری نے، جن کو برما کے سب سے اہم سربراہ جنرل تھان شیوئی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تھی، برما کی صورتحال کا زکر کرتے ہوئے کہا:’ پچھلے ہفتوں کے مقابے میں اب صورتحال مختلف ہے۔ کسی حد تک دیکھا جائے تو یہ مثبت نتیجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میانمار ( برما ) بین لاقوامی رائے سے متاثر ہو سکتا ہے۔‘

ابراہیم کمباری اور آنگ سان سوچی
ابراہیم کمباری نے اپنے دورے کے درمیان آنگ سان سوچی سے بھی ملے۔

ابراہیم کمباری کے اس دورے کے بعد چار سال میں پہلی بار برما کی جمہوریت پسند رہنماء آنگ سان سوچی کو ایک بیان جاری کرنےاور اپنی پارٹی کے کارکنوں سے ملاقات کرنے کی اجازت دی گئ۔ سوچی نے مزید برما کی فوج کے رابطہ کار سے بھی ملاقت کی ہے۔

ابراہیم کمباری کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اب ایک ایسا عمل شروع ہوا ہے جس سے’ ٹھوس اور مثبت مذاکرات سامنے آئیں گے‘ اور انہوں نے حکومت سے آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کے زلمے خلیلزاد اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ برما کی فوج صحیح معنوں میں کسی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ابراہیم گمباری نے کچھ دن قبل ہی برما کا یہ دوسرا دورہ مکمل کیا۔اس سے بیشتر ستمبر میں فوج نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر سخت ردِعمل اور تشدد کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد