برما: بھکشو ایک مرتبہ پھرسڑکوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما میں گزشتہ ماہ مظاہرین پر شدید حکومتی تشدد کے بعد تقریباً ایک سو بھکشو ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلے ہیں۔ یہ بھکشو پکوکُو کے قصبے میں اس مقام پر جمع ہوئے جہاں سے گزشتہ ماہ جمہوریت کے حق میں مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ مظاہرین اس موقع پر دعائیہ کلمے پڑھ رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ اس اجتماع میں ہزاروں بھکشو حصہ لیں گے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انہیں شاید سڑکوں پر آنے سے روک لیا گیا ہے۔ ادھرانسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے برما کی فوج پر الزام لگایا ہے کہ وہ بالغ نوجوانوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے زبردستی بچوں کو فوج میں بھرتی کر رہی ہے۔ مندوب کی واپسی پکوکُو دارالحکومت رنگون سے چھ سو تیس کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے اور یہ قصبہ بدھ مت کی تعلیمات کا ایک بڑا مرکز ہے۔ برما میں مظاہروں کا آغاز انیس اگست کو ہوا تھا جب بھکشوؤں نے ملک میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آواز اٹھائی تھی لیکن یہ مظاہرے چھ ستمبر کو اس وقت ملک بھر میں پھیل گئے جب اطلاعات آئیں کہ فوجیوں نے بھکشوؤں کو مارا پیٹا تھا۔
منگل کو نکالے جانے والےجلوس کے بارے میں عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اگرچہ اس میں شرکاء نے کھلم کھلا سیاسی نعرہ بازی نہیں کی لیکن یہ جلوس بہرحال فوجی حکومت کے خلاف ایک آواز تھی۔ عوامی مقامات پر بھکشوؤں کے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہے جبکہ ملک بھر میں بدھ مت کے مراکز پر حکومت نے تالے لگائے دیے ہیں۔ مظاہروں پر حکومتی تشدد کے خلاف بین الاقوامی سطح پر احتجاج کیا گیا تھا اور امریکہ اور یورپی یونین نے فوجی حکومت کے خلاف پابندیاں بھی لگا دی ہیں۔ مستقل بگاڑ توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ابراہیم گمباری فوجی حکومت سے مذاکرات کے لیے جلد ہی برما لوٹنے والے ہیں۔ ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے نے ایک سینیئر سفارتکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسٹر گمباری تین سے آٹھ نومبر تک برما میں ہوں گے۔ اس سے قبل مسٹر گمبار انتیس ستمبر کو رنگون گئے تھے جہاں انہوں نے فوجی حکومت کے سربراہ جنرل تھان شوے سے مذاکرات کرنے کے علاوہ نظر بند جمہوریت پسند خاتون رہنما آنگ سان سوچی سے بھی ملاقات کی تھی۔ رنگون میں مسٹر گمباری کی آمد ان کے چھ ایشیائی ممالک کے دورے کا حصہ تھا جس کا مقصد ان ممالک میں جرنیلوں پر دباؤ بڑھانا تھا۔ برما کی صورتحال کے بارے میں برما میں برطانوی سفیر مارک کیننگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ملک میں بدامنی بڑھے گی۔ ’مجھے لگتا ہے کہ برما کے عوام میں جو معاشی اور سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے، اس کا اظہار آنے والے مہینوں میں پھر ہوگا۔‘ ادھر ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دس سال کی عمر کے بچوں کو مار پیٹ اور گرفتاری کی دھمکیاں دے کر زبردستی فوج میں بھرتی کے لیے نام درج کرانے کو کہا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں برمی فوج اور باغی قبائل دونوں پر بچوں کو اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزات لگائے گئے ہیں۔ فوج کا اصرار ہے کہ وہ بچوں کو بطور سپاہی استعمال کرنے کے خلاف ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ بہت سے بچوں کواس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ نظام میں ایک مستقل بگاڑ کی عکاسی کرتا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکی ایلچی برما کے لیے روانہ 05 October, 2007 | آس پاس فوجی حکمرانوں سے ملاقات کی کوشش01 October, 2007 | آس پاس برما: اقوامِ متحدہ ایلچی کی ملاقاتیں30 September, 2007 | آس پاس برما: مظاہرے کم، پابندیاں زیادہ29 September, 2007 | آس پاس برما: نو ہلاکتیں، پابندیاں، مذمت27 September, 2007 | آس پاس برما: مظاہرے، فائرنگ، ہلاکت26 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||