برما: مظاہرے، فائرنگ، ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برما کے سب سے بڑے شہر رنگون میں سکیورٹی فورسز نے بدھ بھکشوؤں کی جانب سے مظاہروں کو دبانے کے لیے بدھ کے روز لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع بھی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق رنگون کے مرکز میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور کئی مظاہرین کو پیٹا جبکہ متعدد افراد کو گھسیٹ کر ٹرکوں میں بھر کر لے گئے۔ برما کے کئی شہروں میں گزشتہ چند دنوں سے بدھ بھِکشوؤں کی رہنمائی میں جمہوریت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بدھ کے روز ملنے اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ہزاروں کی تعداد میں اس گھر کی جانب مارچ کیا جہاں جمہوریت نواز رہنما آنگ سان سوچی کئی سالوں سے نظربند ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز شہر کے اطراف میں واقع کئی بدھ بھِکشوؤں کے مقدس مقامات کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق رنگون میں سیاسی ماحول کشیدہ اور عام لوگوں میں فوجی حکمرانوں کے خلاف غصے کی لہر ہے۔ بدھ کے روز رنگون میں سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر دیکھے گئے۔
رنگون کے سب سے مقدس مقام شویڈاگون پگوڑا میں ایک بدھ بھِکشو نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے مظاہرین کی پٹائی کی۔ انہوں نے کہا: ’ہم پرامن طور پر مارچ کررہے تھے اور دعائیں پڑھ رہے تھے کہ پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے جن میں متعدد بھِکشو زخمی ہوگئے۔‘ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو بھی شہر میں کرفیو نافذ تھا جس کے دوران سکیورٹی فورسز نے برما کے دو اہم سیاسی مخالفین یو وِن نائنگ اور کامیڈین زگانار کو گرفتار کرلیا گیا۔ دریں اثناء دنیا کی مختلف حکومتوں نے برما کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں۔ برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے برما کے حالات پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی اپیل ہے۔ حکمران لیبر پارٹی کے سالانہ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ پوری دنیا برما کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ یورپی یونین برما کی فوجی حکومت کے خلاف ممکنہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے غور کرنے والی ہے۔ برما کے پڑوسی ملک تھائی لینڈ نے کہا ہے کہ وہ برما کا معاملہ جمعرات کو جنوب ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے اجلاس دوران اٹھائے گا جہاں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس بھی موجود ہوں گی۔ ادھر آسٹریلیا کی حکومت نے چین اور ہندوستان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برما کے فوجی حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں۔
فرانس، جرمنی، برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے برما کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ منگل کے روز امریکی صدر جارج بش نے برما کی فوجی حکومت کے خلاف مزید پابندیوں کا حکم جاری کیا ہے۔ اس سے قبل پیر کو ملک کے پچیس شہروں میں مظاہرے ہوئے اور رنگون میں مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد کم از کم تیس ہزار تھی، جبکہ اتوار کو رنگون میں ہونے والے مارچ میں تقریباً بیس ہزار بدھ بھکشوؤں نے مارچ کیا تھا جو گزشتہ بیس سالوں میں سب سے بڑا مارچ تھا۔ برما میں بھکشوؤں کو مقدس تصور کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی ملک میں بڑی ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اندیشہ ہے کہ کہیں 1988 کے حالات نہ دہرائے جائیں جب جمہوریت کے لیے کی جانے والی بغاوت کو کچلنے کے لیے فوجی کارروائی میں تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔ بھکشوؤں کا احتجاج گزشتہ ماہ حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتیں دوگنی کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد شروع ہوا جو برما جیسے غریب ملک کے عوام کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ابتدا میں جمہوریت حامی کارکنوں نے اس احتجاج کو چلایا لیکن ایسے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ پانچ ستمبر کو ایک پر امن ریلی میں حکومت کی جانب سے طاقت کا استعمال کرنے پربھکشوؤں نے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ | اسی بارے میں برما: عبادت گاہوں کے باہر فوج تعینات25 September, 2007 | آس پاس ہزاروں بھکشوؤں کا احتجاجی مظاہرہ24 September, 2007 | آس پاس جنتا مخالف مظاہروں میں راہبائیں23 September, 2007 | آس پاس برما پرخاموشی: بانکی مون کو لورا بش کا فون01 September, 2007 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس سوچی:قید میں ساٹھ کی ہوگئیں19 June, 2005 | آس پاس سوچی کی مدت نظر بندی میں اضافہ27 May, 2006 | آس پاس سوچی: ’نظر بندی بارہ ماہ مزید‘27 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||