BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 December, 2007, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راشد رؤف کے فرار پر برطانوی تشویش
راشد رؤف
برطانیہ مبینہ لندن طیارہ سازش کیس میں راشد رؤف کی حوالگی کا مطالبہ کرتا رہا ہے
پاکستان کا کہنا ہے کہ پولیس کی حراست سے فرار ہو جانے والے راشد رؤف کی تلاش جاری ہے جبکہ اسلام آباد میں برطانوی سفارتخانے اس واقعہ کی تفصیلات مانگی ہیں۔

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر جاوید اقبال چیمہ نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور دوسری تحقیقاتی ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو یہ تفتیش کرے گی کہ راشد رؤف کیسے فرار ہوئے اور اس حوالے سے کون موردِ الزام ٹھہرتا ہے۔


بریگیڈیر چیمہ کا کہنا ہے کہ پولیس راشد رؤف کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

پاکستان میں برطانوی سفارتخانے کی ترجمان لورا ڈیویز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے فوری وضاحت مانگی ہے کہ یہ (راشد رؤف کا فرار) کیسے ہوا؟

راشد رؤف سنیچر کو مبینہ طور پر اس وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جب ایک عدالت میں پیش کرنے کے بعد پولیس انہیں اڈیالہ جیل واپس لا رہی تھی۔

مطلوب افراد کا تبادلہ
 برطانوی اخبارات میں پچھلے کچھ عرصہ سے ایسی خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی تھیں کہ برطانیہ اور پاکستان میں راشد رؤف کے بدلے حیربیار مری سمیت برطانیہ میں مقیم بعض بلوچ علیحدگی پسندوں کی حوالگی کے لیے بات چیت ہورہی ہے

اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ملک ظفر اقبال اعوان نے کہا ہے کہ راشد رؤف کو برطانیہ کے حوالے کرنے کے ضمن میں ان کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور انہیں برطانیہ کے حوالے کرنے کے بارے میں کارروائی ابتدائی مراحل میں تھی اور اسی حوالے سے انہیں اڈیالہ جیل سے طلب کیا گیا تھا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راشد رؤف کے برطانیہ میں ایک قتل کے مقدمے میں ان پر فرد جرم کے کاغذات موصول ہوئے تھے جو ان کے وکیل کو دے دیےگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ راشد رؤف کے وکیل نے ان کی ضمانت کی درخواست بھی دی تھی جس کی ابتدائی سماعت کے بعد سماعت چھبیس دسمبر تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب راشد رؤف کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انہیں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے کہا کہ مذکورہ ملزم اس کارروائی کے دوران عدالت میں موجود رہا اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس اہلکار اسے ہتھکڑی لگا کر لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ راشد روف کو برطانیہ کے حوالے کرنے سے متعلق ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران برطانوی ہائی کمیشن کا ایک پولیس افسر اور ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر استغاثہ کی جانب سے پیش ہوئے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکسان اور برطانیہ میں تو مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، ظفر اقبال نے کہا کہ برطانیہ کی طرف سے راشد رؤف کو ان کے حوالے کرنے کے حوالے سے ایک درخواست آئی تھی جس کو وزارت داخلہ نے ابتدائی کارروائی کے لیے اسلام آباد کی انتظامیہ کو بھجوا دیا تھا۔ ان کے بقول اس درخواست پر کارروائی ابتدائی مراحل میں ہے اور مجسٹریٹ کے فیصلے کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

طیارہ سازش کیس
راشد رؤف کو گزشتہ سال اگست میں پاکستان میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان سے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ تب یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ وہ لندن سے امریکہ جانے والے دس طیاروں کو تباہ کرنے کی ایک ناکام سازش کرنے میں بھی ملوث ہیں

ادھر تھانہ مارگلہ میں دو پولیس اہلکاروں نوابزادہ اور محمد طفیل کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔ ان افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ دو سو سائیس اور دو سو چوبیس کے علاوہ پولیس آرڈر سنہ دو ہزار دو کی دفعہ ایک سو پچپن کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان ملزمان کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں پر ان کا جسمانی ریمانڈ کے لیے درخواست دی جائے گی۔

ادھر راشد رؤف جیسے اہم ملزم کی پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری قاضی امتیاز کی سربراہی میں ایک تین رکنی کیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے مرزا یسین بیگ اور اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عامر احمد علی شامل ہیں۔

پاکستانی نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کو گزشتہ سال اگست میں پاکستان میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ان سے مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ تب یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ وہ لندن سے امریکہ جانے والے دس طیاروں کو تباہ کرنے کی ایک ناکام سازش کرنے میں بھی ملوث ہیں۔

راشد رؤف کو ایسے شخص کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جن کی وجہ سے گزشتہ سال پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر حفاظتی انتظامات سخت کرنے پڑے تھے، جن میں مائع اشیا جہاز پر ساتھ لے جانے پر پابندی بھی شامل تھی۔

برطانوی حکام ’لندن طیارہ سازش کیس‘ کے حوالے سے پاکستان سے راشد رؤف کی حوالگی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں لیکن پاکستان کا کہنا تھا کہ راشد رؤف پر انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج ہے، جس کا فیصلہ ہوئے بغیر انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم ایک عدالت نے راشد رؤف کے خلاف دہشت گردی کی دفعات ختم کر دی تھیں، لیکن برطانیہ کی طرف سے حوالگی کی درخواست پر کارروائی کے سلسلے میں انہیں جیل ہی میں رکھا جا رہا تھا۔

راشد رؤف کی بیوی نے اپنی بچی کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا تھا

ادھر راشد رؤف کے وکیل حشمت حبیب نے اپنے مؤکل کے فرار کو ’پراسرار‘ قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دس بارہ مسلح پولیس والوں کے حصار سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا، یہ ناسمجھ آنے والی بات ہے۔‘

دہشت گردی کا مقدمہ ختم ہونے کے بعد راشد رؤف کا خاندان ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ان کی بیوی سائرہ رؤف نے اس حوالے سے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب بھی کیا تھا۔

راشد رؤف کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے بڑے بھائی مولانا طاہر انور کے ہم زلف ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق انہیں بہاولپور کے قریب سے ہی گرفتار کیا گیا تھا، جہاں مولانا مسعود اظہر کا مدرسہ بھی واقع ہے۔

نہ سمجھ آنے والی بات
 یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دس بارہ مسلح پولیس والوں کے حصار سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا، یہ نہ سمجھ آنے والی بات ہے
راشد رؤف کے وکیل

برطانوی اخبارات میں پچھلے کچھ عرصہ سے ایسی خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی تھیں کہ برطانیہ اور پاکستان میں راشد رؤف کے بدلے حیربیار مری سمیت برطانیہ میں مقیم بعض بلوچ علیحدگی پسندوں کی حوالگی کے لیے بات چیت ہورہی ہے۔ تاہم برطانوی وزارتِ خارجہ نے اس کی تردید کی ہے۔

تاہم راشد رؤف کے مبینہ فرار کا واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب لندن میں حیربیار مری اور ان کے ساتھی فیض بلوچ کو گرفتار کر کے ان کے خلاف برطانیہ سے باہر کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
راشد رؤف: حراست کے خلاف اپیل
29 December, 2006 | پاکستان
خصوصی عدالت کا حکم معطل
27 December, 2006 | پاکستان
سازش سے تعلق نہیں: راشد رؤف
22 December, 2006 | پاکستان
راشد: دہشتگردی کا الزام ختم
13 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد