راشد رؤف پولیس حراست سے فرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کے مطابق مبینہ لندن طیارہ سازش کیس میں مطلوب برطانوی شہری راشد رؤف راولپنڈی میں پولیس حراست سے فرار ہو گئے ہیں۔ راشد رؤف کو ایسے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے جن کی وجہ سے گزشتہ سال پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر حفاظتی انتظامات سخت کرنے پڑے تھے جن میں مائع اشیا کے جہاز پر ساتھ لے جانے پر پابندی بھی شامل تھی۔ راشد رؤف کو سنیچر کو پولیس کی نگرانی میں اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد راشد رؤف کو جیل واپس لایا جانا تھا لیکن کہا جا رہا ہے کہ وہ اس دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک افسر خالد پرویز کے مطابق دو پولیس اہلکاروں کو راشد رؤف کے فرار ہونے کے حوالے سے تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تین پولیس اہلکاروں کے خلاف فرائض سےغفلت کامقدمہ بھی درج کیاگیا ہے۔ رؤف کو لندن میں مسافر طیاروں کو مبینہ طور پر خود کش بمباروں کی مدد سے تباہ کرنے کی ناکام سازش تیار کرنے کے الزام میں گزشتہ سال اگست میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ راشد رؤف کالعدم عسکریت پسند تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کے بڑے بھائی مولانا طاہر انور کے ہم زلف ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق انہیں بہاولپور کے قریب سے ہی گرفتار کیا گیا تھا، جہاں مولانا مسعود اظہر کا مدرسہ بھی واقع ہے۔ | اسی بارے میں راشد رؤف: حوالگی روکنے کے لیے رٹ05 April, 2007 | پاکستان راشد رؤف کےلیے دو ہفتے کا ریمانڈ05 January, 2007 | پاکستان راشد رؤف: حراست کے خلاف اپیل29 December, 2006 | پاکستان خصوصی عدالت کا حکم معطل27 December, 2006 | پاکستان سازش سے تعلق نہیں: راشد رؤف22 December, 2006 | پاکستان راشد: دہشتگردی کا الزام ختم 13 December, 2006 | پاکستان ’ملزم کے القاعدہ سے قریبی روابط‘ 15 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||