راشد رؤف: حراست کے خلاف اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن طیارہ سازش کیس کے اہم ملزم برطانوی شہری راشد رؤف کی حراست کو ان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں چیلینج کردیا ہے۔ ایڈووکیٹ حشمت حبیب نے بتایا کہ انہوں نے جمعہ کو سپریم کورٹ میں وفاقی نظرثانی بورڈ کے فیصلے کےخلاف اپیل دائر کردی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے تئیس دسمبر کو ان کے مؤکل کو سپریم کورٹ کے دو اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک جج پر مشتمل بورڈ کے سامنے پیش کیا اور بورڈ نے راشد رؤف کو تین ماہ حراست میں رکھنے کی منظوری دی۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ اگر کسی ملزم کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو یا اس طرح کے کیس میں ان کا ٹرائل ہورہا ہو تو احتیاطی تدابیر کے تحت زیر حراست نہیں رکھ سکتے۔ وکیل نے بتایا کہ دائر کردہ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم کو حراست میں رکھنے کے حکم کی کاپی نہیں فراہم کی گئی اور نہ ہی حراست میں رکھنے کی وجہ بتائی گئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بورڈ کے سامنے ایک زیر سماعت مقدمے میں مطلوب ملزم کو زیر حراست رکھنا سپریم کورٹ کے اپنے فیصلے کی خلاف ورزی ہے اس لیے اس کا نوٹس لیا جائے اور بورڈ کے حکم کو کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی کہا ہے کہ بورڈ کے سامنے غلط بیانی کرنے والے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ | اسی بارے میں خصوصی عدالت کا حکم معطل27 December, 2006 | پاکستان راشد: حکومت سے جواب طلب16 October, 2006 | پاکستان بدقسمتی سے رشتے داری ہے: ہم زلف22 August, 2006 | پاکستان ’ملزم کے القاعدہ سے قریبی روابط‘ 15 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||