BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راشد رؤف کےلیے دو ہفتے کا ریمانڈ

راشد رؤف نے اگست میں لندن سے پرواز کرنے والی گیارہ پروازوں کو فضا میں تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا
پاکستان کی ایک عدالت نے لندن طیارہ سازش کیس کے اہم ملزم کے طور پر پیش کیے جانے والے کشمیری نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کا مزید دو ہفتے کا ریمانڈ دیتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزم کو قانون کے مطابق سہولیا ت فراہم کریں۔

کشمیری نژاد راشد رؤف کو جمعہ کو پولیس نے راولپنڈی کے جوڈیشل مجسڑیٹ کے سامنے پیش کیا تو ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی تھی۔ ملزم کے وکیل کے اعتراض پر عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ ان کو ہتھکڑی پہنا کر عدالت میں پیش نہ کیا جائے اور ساتھ ہی وکیلِ صفائی کی تحریری شکایت پر عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو قانون اور ضابطے کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔

پولیس نے ملزم کو صحافیوں سے بات کرنے سے روک دیا البتہ وہ صرف یہ کہہ سکے کہ وہ بے گناہ ہیں ۔اس دوران ان کے بعض عزیزوں نے بھی ان کے ساتھ کمرہ عدالت میں ملاقات کی اور ان کی ایک رشتہ دار خاتون اس موقع پر آبدیدہ ہوگئیں۔

فی الوقت راشد رؤف کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کسی بھی عدالت میں نہیں ہو رہی ہے کیوں کہ ابھی یہ طے ہونا ہے کہ کون سی عدالت ان کے مقدمے کی سماعت کرے گی ۔

راشد پر یہ الزام ہے کہ ان کا تعلق القاعدہ سے ہے اور انہوں نے گزشتہ سال اگست میں لندن سے پرواز کرنے والی گیارہ پروازوں کو فضا میں تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے برطانوی حکام نے بروقت ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا ۔

پولیس نے راشد رؤف کو گزشتہ سال اگست میں گرفتار کیا اور ملزم پر جعلسازی اور دھوکہ دہی کے الزام لگانے کے علاوہ ان سے دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعوٰی کیا ۔ پولیس نے راشد رؤف کےخلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ درج کیا ہے۔

لیکن دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم کے خلاف دہشت گردی کے الزامات ختم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقدمہ عام عدالت میں چلایا جانا چاہیے اور عدالت نے یہ مقدمہ ڈسڑکٹ اور سیشن کورٹ کو بھیجا تا کہ مقدمے کی سماعت کے لیے مجاز عدالت کا تعین کیا جاسکے۔ سیشن عدالت نے یہ مقدمہ راولپنڈی کے ایک سول کورٹ یا جوڈیشل مجسڑیٹ کو سماعت کے لیے بھیجا۔

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کی درخواست پر عدالت کو یہ مقدمہ سماعت کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔ حکومت اس کوشش میں ہے کہ راشد رؤف کا مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں ہی چلے۔

بہاولپور میں راشد رؤف کا گھر جو اب بند پڑا ہے

پنجاب کے پراسکیوٹر جنرل مشتاق احمد خان کا کہنا ہے کہ راشد رؤف سے جو مواد برآمد ہوا وہ بم بنانے میں استعمال ہوتاہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنا بھی قانون کے مطابق دہشت گردی ہے۔ جبکہ ملزم کے وکیل حشمت حبیب کا کہنا ہے راشد رؤف سے برآمد ہونے والا مواد ہائیڈروجن پراکسائیڈ زخموں کو صاف کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں پنچاب حکومت کی درخواست کی سماعت پندرہ جنوری کو ہوگی۔ راشد رؤف کے خلاف مقدمے کی سماعت کب شروع ہوگی اور کس عدالت میں ہوگی اس کا انحصار لاہور ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلے پر ہوگا ۔

اسی بارے میں
خصوصی عدالت کا حکم معطل
27 December, 2006 | پاکستان
اور اب مقدمہ میجسٹریٹ کے پاس
20 December, 2006 | پاکستان
راشد: دہشتگردی کا الزام ختم
13 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد