اور اب مقدمہ میجسٹریٹ کے پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کے سیشن جج امتیاز احمدنے بدھ کو لندن طیارہ سازش کیس کے اہم ملزم راشد رؤف پر قائم مقدمہ جوڈیشل میجسٹریٹ کو سماعت کے لیے بھیج دیا ہے۔ لندن سے اڑنے والے طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کی مبینہ سازش کے اہم ملزم برطانوی شہری راشد رؤف کے خلاف پولیس نے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا تھا لیکن راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک صفدر حسین نے مقدمہ عام عدالت میں چلانے کا حکم دے دیا تھا۔ راشد رؤف کے وکیل حشمت حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو جب سماعت شروع ہوئی تو ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جوکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی حکم عدولی ہے۔ وکیل نے کہا کہ طیارہ سازش کو امریکہ، برطانیہ اور پاکستان کی حکومتوں نے اتنا اچھالا تھا کہ دنیا بھر کےلوگ خوفزدہ ہوگئے تھے لیکن اب اُس سازش کے سرکردہ ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت نہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کر رہی ہے اور نہ ہی سیشن جج۔ وکیل کے مطابق اب اس مقدمے کی سماعت ایک میجسٹریٹ کریں گے۔ وکیل نے کہا کہ اس سے ثابت ہوگیا کہ طیارہ سازش کیس ایک ڈرامہ تھا جس سے دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام بدنام ہوا۔ حشمت حبیب کے مطابق ملزم کو ملتان سے بہاولپور جاتے ہوئے ایک بس سے اتارکر نواگست کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن پولیس نے چالان میں ان کی گرفتاری دس اگست کو راولپنڈی سے ظاہر کی ہے۔ ایڈووکیٹ حبیب نے کہا کہ پولیس چالان کے مطابق راشد رؤف سے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ برآمد کیا گیا اور پولیس کہتی ہے کہ یہ مواد بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ اصل میں ملزم سے زخموں کو صاف کرنے والی دوائی برآمد ہوئی تھی۔ وکیل نے کہا کہ ملزم راشد رؤف کے خلاف اب جعلسازی، دھوکہ دہی اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔ | اسی بارے میں راشد رؤف: حوالگی کی درخواست28 August, 2006 | پاکستان ’رؤف: برطانیہ کو سونپ سکتے ہیں‘26 August, 2006 | پاکستان راشد رؤف کے گاؤں سے پہلی بار19 August, 2006 | پاکستان پاکستان میں گرفتار کا نام راشد رؤف11 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||